مجھے نہیں جانا اسکول ۔ ۔ ۔

School-2

تحرير: محمد قربان

تھکا ہارا عمران گھر آيا اور اسکول کا بستہ چارپائی پر پھينکتے ہوئے ماں سے بولا ميں کل سے اسکول نہيں جاوں گا۔ ماں نے پيار کيا، کھانا کھلايا اور پھر پوچھا بيٹا تم نے تو کبھي اس طرح ضد نہيں کي، آج ايسا کيا ہوا؟ عمران غصے میں بولا۔ ماں، اسکول جاتے ہي ماسٹر صاحب کسي کے ہاتھ ميں جھاڑو پکڑا ديتے ہيں تو کسي کو بينچوں کي صفائي کا حکم جاري کر ديتے ہيں۔ ہم طالب علم ہيں يا جمعدار؟ مجھے نہيں پڑھنا سرکاري اسکول ميں مجھے کسي پرائيويٹ اسکول ميں داخل کروا دو۔

School-5

يہ ايک حقيقت ہے کہ سرکاري اسکولوں خاص طور پر ديہات کے اسکولوں کے اساتذہ  طلبہ سے  گھروں کے ذاتي کام کروانے سے بھي گريز نہيں کرتے۔ کسي کي ذمہ داری استاد کے گھر سے کھانا یا چائے لانے کي ہوتي ہے تو کسي کو مويشيوں کے لئے چارہ کاٹنے کھيتوں ميں بھجوا ديا جاتا ہے۔ اسکول کي صفائي ستھرائي تو گويا طلباء کے فرائض ميں شامل ہوتي ہے اور اس کی وجہ اسکولوں ميں خاکروب کا نہ ہونا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق صوبائي دارالحکومت لاہور کے کم و بيش نوسو پرائمري اور ايليمنٹري اسکولوں ميں خاکروب کي اسامي ہي موجود نہيں جبکہ ہائي اسکولوں ميں بھي خاکروب کي تیرہ سو آسامياں خالي ہيں جن پر بھرتي نہيں کي جا رہي۔ ننھے طالب علم ہاتھوں ميں قلم تھامنے کي بجائے بالٹياں اور جھاڑو اٹھا کر واش رومز کي صفائي تک کرنے پر مجبور ہيں۔

کچھ ايسی ہی صورتحال اسکولوں کي عمارتوں کي ہے۔ 127 سرکاري اسکولوں کي عمارتيں خطر ناک قرار دي گئي ہيں جن ميں سے 20 انتہائي بوسيدہ حالت ميں ہيں اور کسي بھي وقت بڑے حادثے کا باعث بن سکتي ہيں۔

School-3

اساتذہ کي کمي تعليمي بہتري کي راہ ميں بڑي رکاوٹ ہے اور اسکولوں ميں ٹيچرز کي تين ہزار کے قريب آسامياں خالي پڑي ہيں۔ بے تحاشا اسکول ايسے ہيں جہاں طلباء کو پينے کا صاف پاني ميسر ہے نہ صاف ستھرے واش رومز اور بہت سے اسکول ايسے بھي ہيں جہاں پنکھے نہ ہونے کي وجہ سے گرميوں ميں طلباء کي شکليں پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔

ايک دور تھا جب پرائيويٹ تعليمي اداروں کا نام و نشان بھي نہيں تھا۔ مسيحي مشنري اداروں کے اسکول بھي تھے اور انجمن حمايت اسلام کے تحت چلنے والے تعليمي ادارے بھي عظيم خدمات انجام دے رہے تھے۔ سینٹرل ماڈل اسکول کے طلباء ہر امتحان ميں پوزيشن ليتے تھے۔ سرکاري اسکولوں ميں ٹاٹ پر بيٹھ کر تعليم حاصل کرنے والے طلباء نے سياست، بيورکريسي سميت ہر شعبے ميں اعلي عہدوں تک پہنچ کر نام کمايا۔ اس کے باوجود تعليم اور صحت کے شعبہ کو ہر بجٹ ميں  نظر انداز کيا جا رہا ہے۔ پورے بجٹ کا چند فيصد ہي ان شعبوں کے لئے مختص کيا جاتا ہے۔

پرائيويٹ اسکولوں کي فيسيں بے لگام ہيں اور انہيں کنڑول کرنے کي تمام حکومتي کوششيں ناکام نظر آتي ہيں۔ ہرسال فيسوں ميں من مانا اضافہ کر ديا جاتا ہے اور والدين اپني آمدن کا بڑا حصہ بچوں کي فيسوں کے لئے خرچ کرنے پر مجبور ہوتے ہيں۔

School-4

بے چارا عمران  کلاس ميں جھاڑو دينے سے  بچنے کے لئے سرکاري اسکول سے جان چھڑا کر پرائيويٹ اسکول ميں جانے کي ضد تو کر بيٹھا ہے ليکن يہ نہيں جانتا کہ اس کے غريب والدين ميں اتني سکت نہيں کہ وہ کسي پرائيويٹ اسکول ميں اس کا داخلہ ہي کروا سکيں۔ سرکار کو بھي چاہئے کہ اگر وہ پرائيويٹ اسکولوں کو کنٹرول نہيں کر سکتي تو کم از کم سرکاري اسکولوں کي حالت پر ہي کچھ توجہ دے لے تاکہ بچے تعليم سے تو باغي نہ ہوں۔

govt schools

schools condition

sweepers

teachers unavailability

education system

Tabool ads will show in this div