پٹھان کوٹ کے بعد

Jan 11, 2016
Pathankot: An armored vehicle moves near the Indian Air Force base that was attacked by militants in Pathankot, Punjab on Saturday. PTI Photo  (PTI1_2_2016_000051B)
Pathankot: An armored vehicle moves near the Indian Air Force base that was attacked by militants in Pathankot, Punjab on Saturday. PTI Photo (PTI1_2_2016_000051B)
Pathankot: An armored vehicle moves near the Indian Air Force base that was attacked by militants in Pathankot, Punjab on Saturday. PTI Photo  (PTI1_2_2016_000051B)

تحریر:احمد ولید

بھارتی پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ کی ائر بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان شروع ہونے والی ابتدائی بات چیت کو سنجیدہ خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ جنوری کے وسط میں دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ مذاکرات ہونے جارہے ہیں، ابتدائی طور پر دونوں ممالک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس نازک صورتحال میں مثبت ڈپلومیسی اپنائی اور پٹھان کوٹ ائر بیس پر حملے میں ملوث افراد یا تنظیم کے خلاف کارروائی کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کو ٹیلی فون کرکے یقین دلایا کہ اگر حملے کے سرے پاکستان میں پائے گئے تو  بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ ادھر بھارتی حکومت نے شروع میں اپوزیشن اور میڈیا کے تند و تیزحملوں کے باوجود سخت بیانات سے احتراز کیا اوراب نئی صورت حال کچھ یوں ہے کہ بھارت نے مذاکرات کو پاکستان کی طرف سے کارروائی سے مشروط کردیاہے۔ pathankot-attacks_0206b3d6-b4e5-11e5-9860-1d91036943d1 پٹھان کوٹ حملے نے بھارت کی تمام ایجنسیوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا،بارڈر سیکیورٹی فورس بھی جواب دہ ہے کہ اونچی باڑ اور سخت سیکیورٹی کے باوجود دہشت گرد سرحد پار کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔ پنجاب پولیس بھی پریشانی کے عالم میں ہے کہ فوج کی وردی میں حملہ آور اتنے بھاری اسلحہ کے ساتھ سرحد سے اتنا سفر کرکےائربیس میں کیسے داخل ہوئے؟  ادھر یہ بھی تفتیش ہو رہی ہے کہ ایک پولیس افسر کے اغوا کی اطلاع کے بعد تمام اداروں نے متحرک ہونے میں اتنی دیر کیوں کی؟ کیا دہشت گرد دو گروپوں میں تقسیم تھے؟ مبینہ طور پر اغوا کے بعد رہائی پانے والے پولیس افسر کو دہلی طلب کر لیا گیا ہے جہاں ان سے جھوٹ پکڑنے والے آلے کے ذریعے تفتیش کی جائے گی اس کے علاوہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ بھارتی ایجنسیوں نے حملہ آوروں کا تعلق پاکستان میں سرگرم جیش محمد سے جوڑنے کی کوشش کی ہے  اور بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کوپٹھان کوٹ سے متعلق 'قابل عمل' معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔ ادھر پاکستان میں بڑے سرجوڑ کربیٹھے ہیں کہ ان معلومات کا کیا کرنا ہے، پاکستان کے عسکری اور سیاسی رہنماؤں نے دنیا کو کھلا پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ narendra-modi-nawaz-sharif ائربیس پرحملے سے چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اچانک دوپہر کے کھانے پر نوازشریف سے رائے ونڈ میں ملاقات کی جسے دونوں ممالک کے درمیان اہم پیشرفت قراردیا گیاتھا۔ مذاکرات کے دشمنوں کو یہ کھانا ہضم نہ ہوسکا اور پٹھان کوٹ ائربیس پر حملہ کرکے یہ پیغام دیا گیاکہ 'یہ دوستی نہیں ہوسکتی'جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تین چار دن نپے تلے بیانات کے بعد مودی سرکارکے لہجے میں آہستہ آہستہ تلخی محسوس ہو نے لگی۔ ممبئی حملوں کے برعکس پٹھان کوٹ حملے نے دونوں حکومتوں کو کچھ زیادہ جلدی امتحان میں ڈال دیاہے۔ پرویز مشرف کے دورمیں پاکستان اور بھارت باہمی مسائل پر ایک تاریخی معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے لیکن اس بارتو بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی دہشت گردوں نے اپنا وارکرڈالا، اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ملک اس امتحان سے نکلنے میں کیسے کامیاب ہوپاتے ہیں۔ Pathankot:  Security men stand guard as an armored vehicle moves near the Indian Air Force base that was attacked by militants in Pathankot, Punjab on Saturday. PTI Photo  (PTI1_2_2016_000064B) اس میں کوئی شک نہیں کہ سرحد کے دونوں جانب ایسے عناصرموجود ہیں جو مذاکرات نہیں چاہتے اوران عناصر کے بیانیے کو پھیلانے کا کام بعض تجزیہ کار سر انجام دیتے ہیں۔ پاکستان کے تجزیہ کاروں اور ٹی وی اینکرپرسن تو مودی کے اچانک دورے پرمن گھڑت مفروضے اور قیاس آرائیوں میں بہت آگے نکل گئے، یہا ں تک کہا گیاکہ پاکستان کی عسکری قیادت مودی اور نواز ملاقات پر بہت سخت ناراض اور برہم ہے کیونکہ مودی کے دورے  سے متعلق انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ادھر کانگریس اورحکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے شدت پسند عناصر نے بھی اپنے وزیراعظم کے اس اچانک دورے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا۔  پھر جب پٹھان کوٹ کا حملہ ہوا تو عقابی تجزیہ کاروں نے پاکستان کے ملوث ہونے کا جوازپیش کرتے ہوئے کہا کہ حملہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ مودی کے دورے سے ناخوش تھی۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے تجزیہ کار اور اینکر پرسن سول اور ملٹری قیادت  کے درمیان شگاف ڈال کر کن قوتوں کے مقاصد پورے کررہے ہیں۔ روایتی طور پر منفی سوچ کے حامل تجزیہ کار اکثرہر مسئلے پر بغیر سوچے سمجھے اور تصدیق کیے اداروں میں دراڑڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کی ملٹری اورسول قیادت نے واشگاف الفاظ میں یہ پیغام دیا کہ وہ پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات میں بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے اور حالات کا تقاضا بھی یہی ہے۔ دونوں ممالک کو اپنے عوام کے مفاد میں ماضی کی تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنے کے لیے قدم سے قدم ملا کر دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے والے تمام عناصر کو شکست دیے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہو پائے گا۔

PM Nawaz Sharif

Modi visits pakistan

indian air base attack

Tabool ads will show in this div