حکومت کی جانب سےافغانستان کوپیٹرولیم منصوعات برآمدگی پرپابندی

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : حکومت نے افغانستان کو پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ نو سال کے دوران قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
 
وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کی پابندی کے تحت ملکی ریفائنریوں کی تیارکردہ مصنوعات آئندہ افغانستان برآمد نہیں کی جا سکیں گی۔

پابندی سے امریکی فرم ڈیفنس انرجی سپلائی کمپنی کو بھی فراہمی معطل ہو گئی۔ افغانستان کو برآمد کردہ پٹرولیم مصنوعات جی ایس ٹی اور لیوی سے مستثنٰی ہونے کے سبب قومی خزانے کو پچیس روپے فی لیٹر تک نقصان برداشت کرنا پڑا۔

افغانستان کو سالانہ ایک لاکھ ٹن پٹرول ، ڈیڑھ لاکھ ٹن ہائی اسپیڈ ڈیزل اور ساڑھے آٹھ لاکھ ٹن جیٹ فیول برآمد کیا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق برآمد کے نام پر پیٹرول اور ڈیزل اضافی نرخوں پر ملک میں ہی فروخت کر دیا جاتا تھا۔

وزارت پٹرولیم نے ایف بی آر اور وزارت خزانہ کو سالانہ اربوں روپے نقصان سے آگاہ کیا اور برآمد پر پابندی کی متعدد بار سفارش کی گئی۔ حکومت نے ملکی صارفین کو نظرانداز کر کے افغانستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد پر پینتیس ارب روپے سبسڈی دی۔ سماء

کی

Video

immigrant

dna

detention

Tabool ads will show in this div