ڈالر کی اونچی اڑان برقرار،4روز میں 6روپے تک مہنگا ہوگیا

ایک ڈالر 187روپے سے تجاوز کرگیا

مقامی کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر بڑھنے کا سلسلہ جمعرات کو بھی برقرار رہا۔

 انٹر بینک میں ڈالر مزید1.05روپے کے اضافے سے 186.92روپے کی سطح پر پہنچ گیا جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر187روپے سے اوپر ٹریڈ کررہا ہے۔

 پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ پیر کو شروع ہوا تھا جو مسلسل چوتھے روز جمعرات کو بھی برقرار رہا جس کے نتیجے میں 4روز کے دوران انٹر بینک میں ڈالر5.42روپے اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں تقریباً6روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اوروزیر اعظم کے انتخاب کے بعد ملک میں سیاسی بحرانی کیفیت ختم ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں 6.63روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر  8.30روپے گرگیا تھا تاہم زرمبادلہ کے کم ذخائر اور تجارتی وکرنٹ خسارے کا دباو پیر کو کرنسی مارکیٹ میں پھر لوٹ آیاجو جمعرات کو بھی برقرار رہا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف سے معطل ہونے والے مذاکرات کی بھی بحال ہورہے ہیں اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اس سلسلے میں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ مذاکرات کی کامیابی سے ایک ارب ڈالر کی قسط موصول ہونے کی امید ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مذاکرات میں تیل پر پٹرولیم ڈیولپمنٹ وصولی اور بجلی سمیت دیگر شعبوں میں سبسڈیز خاتمے کے لئے دباو ڈالا جاسکتا ہے۔ فوریکس ڈیلرز کے مطابق آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستانی روپے پر دباو میں کمی آئے گی لیکن تاخیر کی صورت میں ڈالر 190روپے کی بلند سطح سے بھی اوپر جاسکتا ہے۔

Dollar rates

Tabool ads will show in this div