شیر کا بچہ انسان کے ہاتھ

 

ا

تحریر: ثمن خان

شینکو ۔۔۔۔ شینکو۔۔۔۔ شینکو پُتر ۔۔۔ ادھر آو بیٹا ۔۔۔ دودھ پینے کا وقت ہو گیا ہے۔

یعقوب چمن کی آواز کانوں میں پڑنا تھی کہ ساڑھے تین ماہ کا شینکو بھی کسی فرمانبردار بچے کی طرح سر جُھکائے اُس کی طرف ہو لیتا ہے۔

چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا شینکو لاہور چڑیا گھر کی شیرنی کاجل کا بچہ ہے۔ وہ پانچ دن کا تھا، جب اُسکی ماں نے اُسے دودھ پلانا چھوڑ دیا۔ ننھا شینکو کسی طرح بچ جائے، بس اسی بات کو یقینی بنانے کے لئے چڑیا گھر انتظامیہ نے اُسے اپنی نگہداشت میں لے لیا۔ اور اُسے یعقوب چمن کے حوالے کر دیا۔ یعقوب پچیس سال سے چڑیا گھر میں آنیوالے شیروں کا رکھوالا ہے۔ اُنہیں کھانا ڈالنے سے لیکر اُنکی دیکھ بھال اُسکے فرائض میں شامل ہے۔ لیکن شینکو کے آنے کے بعد اُسکی ذمہ داری صرف یہ چھوٹا شیر کا بچہ ہی ہے۔

۲

یعقوب چمن ۔۔۔ شینکو کے روزانہ کے معمول کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ "ہم اسکی نیند کا بُہت خیال رکھتے ہیں، اس کے سونے، اُٹھنے اور کھانے کا وقت مقرر ہے۔ یہ صرف میری آواز سے ہی جاگتا ہے، میں اسے نیند سے اُٹھانے کے بعد پہلے گود میں لیتا ہوں، اپنے بچوں کی طرح سر پر ہاتھ پھیرتا ہوں، پھر اسے کُھلی گھاس پر چھوڑ دیتا ہوں، جہاں یہ واک کرتا ہے، اسے میرے ہاتھوں کی عادت ہوگئی ہے اور وہ میری خوشبو دور سے ہی پہچان لیتا ہے۔ یہ میرے علاوہ نہ کسی اور کے ہاتھ سے دودھ پیتا ہےاورنہ کھانا کھاتا ہے۔ شینکو مُجھے میرے بچوں کی طرح عزیز ہے اور وہ بھی مُجھے ہی اپنی ماں سمجھتا ہے"۔

شینکو صرف یعقوب چمن کی ہی نہیں بلکہ چڑیا گھر کے ڈاکٹر سیموئیل اور ڈاکٹر بابر کی بھی ذمہ داری ہے۔ شینکو کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا اور اُسکے روزمرہ کی حرکات کا چارٹ بنانا  اُن کے روزانہ کا کام ہے۔

ڈاکٹر بابر کہتے ہیں کہ " ہم شینکو کی خوراک کے بارے بُہت احتیاط برتتے ہیں، اُسے باہر سے منگوایا گیا مہنگا دودھ فیڈر کے ذریعےپلایاجاتاہے، چونکہ یہ بھی بڑی بلیوں کے خاندان میں سے ہے، اسی لئے اسے ٹھوس غذا کے طور پر بیرون مُلک سے درآمد شُدہ کیٹ فوڈ یعنی کچی مچھلی سے تیار کی گئی بلیوں کی خوراک چھ چھ گھنٹے کے وقفے سے دی جاتی ہے۔ پھر ہم نے ایک چارٹ بنایا ہوا ہے، جس میں اس کی ایک ایک حرکت یعنی اس نے دودھ کتنے بجے پیا، خوراک کا کتنا حصہ کھایا، رفع حاجت کس وقت کیا، اُس کا رنگ اور نوعیت کیا تھی،  یہ سب باتیں روزانہ تین بار مانیٹر کی جاتی ہیں اور اُس چارٹ میں لکھی جاتی ہیں"۔

۳

ڈاکٹر سیموئیل نے بتایا کہ شینکو کو ہر وقت اپنی نظروں کے سامنے رکھنا اُسکی پرورش کا حصہ ہے اور اسی لئے اُنہوں نے اُسے اپنے کمرے میں لکڑی سے بنی باڑ میں رکھا ہوا ہے۔ چونکہ رات کو بھی اس کے پاس رُکنا پڑتا ہے اس لئے ڈاکٹر بابر اور اُنہوں نے ذمہ داریاں نٹ رکھی ہیں، دونوں شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور خوش ہیں کہ شینکو صحت یابی سے زندگی کا سفر طے کر رہا ہے"۔

ماں کے بغیر یعنی بناء شیرنی کے اُسکے بچے کو پالنا چڑیا گھر انتظامیہ کے لئے آسان کام نہیں، اس سے قبل دو بار اُن پر یہ وقت آیا کہ اُنہیں شیر کے بچے کی نشوونما اپنے ہاتھوں سے کرنا پڑی، ایک کیس میں شیرنی بچے کی پیدائش کے بعد زندگی کی بازی ہار گئی اور دوسرے کیس میں شیرنی نے بچے کو خود سے دور کر لیا، تب بھی چڑیا گھر کے عملے نے اُنہیں پوری محنت کے ساتھ پالنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی اور وہ پہلے مہینے میں ہی کسی نہ کسی بیماری میں مُبتلا ہو کر مر گئے تھے۔ اسی لئے شینکو لاہور چڑیا گھر انتظامیہ کا پہلا کامیاب تجربہ ہے، جو مکمل صحت یابی سے پل رہا ہے۔

۵

 اپنی اس کامیابی پر لاہور چڑیا گھر کے موجودہ ڈائریکٹر شفقت علی بھی خوش ہیں۔ کہتے ہیں کہ "یہ ہمارے اسٹاف کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ہم اس شیر کے بچے کو بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں، سب ڈیوٹی سمجھ کر نہیں بلکہ اسے اپنے کسی پیارے کی طرح پال رہے ہیں۔ ہم اس کامیاب کاوش پر تحقیقی مقالہ بھی شائع کریں گے، تاکہ مُستقبل میں اگر کسی کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہو تو مُشکل پیش نہ آئے"۔

۶

شینکو ہی وہ شیر کا بچہ ہے جسے اسکی پیدائش کے بعد اداکارہ بابرہ شریف دو سال کے لئے گود لے چُکی ہیں۔  اداکارہ نے ہی اسے شینکو کا نام دیا اور اس کی خوراک کا خرچہ اُٹھا لیا۔ یوں تو شینکو بُہت دوستانہ طبیعت کا ملک ہے، سب کے پاس باآسانی آ جاتا ہے لیکن زیادہ ہاتھوں میں جانا اسکی صحت کو نقصان پُہنچا سکتا ہے، اس لئے انتظامیہ نے اسےصرف چند ہاتھوں تک محدود رکھا ہوا ہے۔ شینکو 24 دسمبر کو چار ماہ کا ہوچکا ہے۔ انتظامیہ کا تاحال شینکو کو قید کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور مزید ایک سال تک اسے کُھلی ہوا میں رکھا جائے گا۔ شينکو کی نشوونما ميں متبادل غذا کے ساتھ ساتھ پيار بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

BABRA SHARIF

Tabool ads will show in this div