یوکرین سے'ڈانس رپورٹنگ' کرنے والی شازیہ نثارکون ہیں؟

یہ ڈانس ہے، ریپ یا رپورٹنگ؟

دوماہ گزرنے کے بعد بھی یوکرین میں روس کا ملٹری آپریشن جاری ہے، دنیا بھرکے ذرائع ابلاغ نے اس حوالے سے خبریں پہنچانے کے لیے اپنے نمائندے وہاں بھیج رکھے ہیں۔

فروری سے جاری اس جنگ میں سیٹلائٹ امیجز، میڈیا رپورٹس اورسوشل میڈیا تباہ حال یوکرین دکھاتے ہیں جہاں خالی سڑکیں اورعمارتیں ، بڑھتی ہوئی ہلاکتیں ہیں اور فوجی گاڑیاں سڑکوں پر چلتی نظرآتی ہیں، یوکرین کے عوام یا تو دوسرے ممالک میں پناہ گزین بن رہے ہیں یا پھراس امید پروہیں رہ رہے ہیں کہ یہ جنگ جلد ختم ہوجائے گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اب تک 46 ہزارسے ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد دربدر ہوئے۔

جنگ زدہ یوکرین میں دنیا بھرسے موجود رپورٹرزاپنی جان جوکھم میں ڈال کر یہ دکھارہے ہیں کہ روسی حملوں کے دوران وہاں کیا ہورہا ہے اور کیسے اس بات کو ممکن بنایاجائے کہ یہاں کے عوام کی آواز دنیا تک پہنچے۔ ایسی صورتحال میں وہاں موجود بھارتی نیوزاینکرکےعجیب وغریب انداز نے سوشل میڈیا صارفین کو اچنبھے میں ڈال دیا کہ ان تک خبرپہنچانے کا یہ کون سا انداز ہے۔

سوشل میڈیا پرٹی وی چینل ری پبلک بھارت کی اینکر شازیہ نثارکی کئی ویڈیوز وائرل ہوئیں جنہیں دیکھ کراندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا وہ کسی قسم کی ورزش کررہی ہیں یا ڈانس کے ہلکے پھلکے اسٹیپس دکھارہی ہیں۔

بھارتی نیوزچینلزکی روایت کو یوکرین میں بھی زندہ رکھنے والی شازیہ نثار کااندازبیاں اورسنسنی قبل دید ہے جو کسی پروفیشنل سے زیادہ بطورریپرتوجہ کا متقاضی دکھائی دیتا ہے۔

یہ انداز انٹرنیٹ صارفین کی فوری توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور متعدد صارفین نے جنگی زون کے درمیان میں اس غیرحساس رویے اوراتنے اہم مسئلے کو سنسنی خیز بنانے کی کوشش کرنے پرنیوز اینکرکوتنقید کا نشانہ بنایا۔

گزشتہ ہفتےجنگ کے دوران روسی بحری جہاز کے تباہ ہونے کی خبرکے انداز نے شازیہ کو انٹرنیٹ پرمزید وائرل کیاجہاں وہ کہہ رہی ہیں ، ' دیکھیے کس طریقے سے کالا ساگر (بلیک سی) میں یوکرین نے روس کے جنگی جہازکو ڈبودیا '۔

پرمزاح تبصروں کے ساتھ ساتھ بیشترصارفین نے اس حوالے سے بھی بات کی کہ خبررپورٹ کرنے کا یہ انداز موجودہ دور میں صحافت کے گرتے ہوئے معیار کو ظاہرکرتاہے۔

SHAZIA NISAR

UKRINA-RUSSIA WAR

INDIAN REPORTER

Tabool ads will show in this div