سندھ: تمباکوپر پابندی کے باوجود منہ کے کینسر میں اضافہ

آئی جی سندھ کی پابندی پرسختی سے عملدرآمد کی ہدایت

کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں میں منہ کے سرطان میں مبتلا افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، پابندی کے باوجود گٹکا ماوا اور دیگر مضر صحت اشیاء کی فروخت جاری ہے، جو نوجوانوں میں منہ کے کینسر کا سبب بن رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل سندھ ہیلتھ سروسز نے آئی جی سندھ پولیس سے اپیل کی ہے کہ سندھ بالخصوص ساحلی علاقوں میں گٹکا کی تیاری اور فروخت پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔

ڈی جی ہیلتھ سروسز نے وزیر صحت سندھ کی ہدایت کی روشنی میں آئی جی سندھ مشتاق مہر کو خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ بالخصوص ساحلی علاقوں میں منہ کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق منہ کے کینسر کے مریضوں میں اضافے کی بڑی وجہ گٹکا، مین پوری، ماوا سمیت دیگر مضر صحت اشیاء کا استعمال ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ منہ کا کینسر سندھ کے نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ڈی جی ہیلتھ سروسز نے واضح کیا ہے کہ کراچی سے متصل ضلع ٹھٹھہ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ سے منہ کے کینسر کے مریضوں میں اضافے کا پتہ چلتا ہے، رپورٹ کے مطابق ضلع ٹھٹھہ میں صرف ایک ماہ، مارچ کے دوران منہ کے کینسر کے 1180 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے آئی جی پولیس سندھ سے اپیل کی ہے کہ صوبہ بھر بالخصوص ساحلی علاقوں میں گٹکا، مین پوری، ماوا اور دیگر مضر صحت اشیاء کی تیاری اور فروخت پر مکمل اور فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔

دوسری جانب ماہرین امراض کینسر اور ای این ٹی اسپیشلسٹ کا کہنا ہے کہ چھالیہ کھانے کی وجہ سے اسکولوں میں پڑھنے والے بچے بھی سب میوکس فائبروسیس کا شکار ہو رہے ہیں، جناح اسپتال میں سالانہ 4 ہزار کے لگ بھگ منہ کے کینسر کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

جناح اسپتال کے ماہر امراض کینسر ڈاکٹر خلیل مہر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ جناح اسپتال شعبہ کینسر کی او پی ڈی میں 60 سے 70 فیصد مریض منہ کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں، منہ کے کینسر میں مبتلا مریضوں کے دباؤ کے سبب ہیڈ اینڈ نیک کی او پی ڈی کو علیحدہ کردیا گیا ہے اور یہ ہفتے میں دو دن ہوتی ہے، جہاں 20 سے 300 منہ کے کینسر میں مبتلا مریض آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال میں سالانہ 6 ہزار سے زیادہ کینسر کے نئے مریض رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے لگ بھگ 4 ہزار منہ کے کینسر کے ہوتے ہیں، آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ منہ کا کینسر کتنا تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ڈاکٹر خلیل مہر نے بتایا کہ ان مریضوں میں زیادہ تر افراد وہ ہیں جو پان، گٹکا، تمباکو استعمال کرتے ہیں، ان چیزوں کے استعمال سے نوجوان زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، ایسے مریض بھی آتے ہیں جن کی عمریں مشکل سے 20 سے 30 سال کے درمیان ہوتی ہونگی، سندھ کے ساحلی علاقے، کچی اور غریب آبادیوں میں پان، گٹکا اور تمباکو زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور ان علاقوں سے منہ کا کینسر زیادہ رپورٹ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر خلیل مہر کا کہنا تھا کہ پابندی کے باوجود گٹکا سرعام بیچا جارہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں، ہمارے ہاں قوانین پر عملدرآمد نہیں ہوتا، اگر پابندی پر سختی سے عمل کیا جائے تب ہی اس بیماری سے چھٹکارا ممکن ہے۔

ناک، کان اور حلق کی بیماریوں کے ماہر اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ بدقسمتی سے ہمارے پاس کنفرم ڈیٹا موجود نہیں، ہمارے ہاں کوئی ایسی رجسٹری موجود نہیں جس کی بنیاد پر بتایا جاسکے کہ کینسر کے کتنے مریض اس وقت موجود ہیں، منہ کے کینسر میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مردوں میں منہ کا کینسر پہلے نمبر پر ہے، منہ کے کینسر کا جو مین سورس ہے وہ چھالیہ ہے، چاہے جتنی اچھی کوالٹی کی چھالیہ کیوں نہ ہو اس کا جوس کارسینوجینک ہے یعنی وہ کینسر کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب چھالیہ میں کتھا، چونا اور پھر گٹکے میں مضر صحت کیمیکلز شامل کئے جاتے ہیں جسے انتہائی غلیظ طریقے سے بنایا جاتا ہے، پھر یہ اور زیادہ مضر صحت ہوجاتا ہے، جس کو چھالیہ سے کینسر نہیں بھی ہونا پوتا اسے بھی کینسر ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 40 سے 45 فیصد لوگ چھالیہ کا استعمال کرتے ہیں اور 25 سے 30 فیصد لوگ گٹکا استعمال کرتے ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ منہ کا کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے، خطرناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں میں منہ کا کینسر زیادہ پھیل رہا ہے، حتیٰ کہ 8 سال کے بچے میں بھی منہ کا کینسر پایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چھالیہ کھانے سے منہ کے کینسر سے پہلے ایک بیماری سبمیوکس فائبروسیس ہوتی ہے جس میں منہ کم کھلتا ہے، منہ کے اندر کے حصے کی لالی ختم ہوجاتی ہے اور سفید ہوجاتا ہے، خون کا دوران ختم ہوجاتا ہے، آہستہ آہستہ منہ کھلنا بند ہوجاتا ہے، یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے، اس کا کوئی علاج نہیں، منہ کے کینسر میں اگر لوگ شروع میں آجائیں تو پھر بھی علاج ہوجاتا ہے لیکن سب میوکس فائبروسیس کا علاج نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ان چیزوں پر پابندی لگانے سے کچھ نہیں ہوتا، البتہ پابندی سے قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوتا، اگر پابندی پر عملدرآمد کرائیں تو یقیناً فرق پڑے گا، ہم غریب ملک ہونے کے باوجود چھالیہ امپورٹ کرتے ہیں، اگر حکومت پاکستان شہریوں کی صحت کا خیال رکھنا چاہتی ہے اور انہیں منہ کے کینسر سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے تو چھالیہ کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ساحلی پٹی والے علاقوں میں بچے اور خواتین بھی گٹکا کھاتے ہیں، کراچی کے غریب علاقے کے لوگ گٹکے کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور ہر وقت گٹکا کھاتے رہتے ہیں، پہلے منہ کے کینسر کے کیسز صرف کراچی میں رپورٹ ہوتے تھے، اب پورے پاکستان میں لوگ پان، گٹکا اور چھالیہ کھاتے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مردوں میں منہ کا کینسر پہلے نمبر پر ہے۔

جناح اسپتال کراچی کے شعبہ امراض ناک، کان و حلق کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد رزاق ڈوگر نے بھی پاکستان میں منہ کے کینسر کے مریضوں میں تیزی سے اضافے کی وجہ چھالیہ، گٹکا، مین پوری، نسوار اور تمباکو کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہرمیں درجنوں برانڈ کی چھالیہ موجود ہیں جو نوجوانوں کو منہ کے کینسر میں مبتلا کر رہی ہیں، بدقسمتی سے اسے ہم خود درآمد کرتے ہیں، اس سلسلے میں قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے۔

Tabool ads will show in this div