مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں حریم شاہ کوبڑا دھچکا

ٹک ٹاکرعدالتی حکم کے باوجود پیش نہیں ہوئیں

سندھ ہائیکورٹ نے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں ٹک ٹاکرحریم شاہ کی جانب سے ایف آئی اے کیخلاف کارروائی کے لیے دائردرخواستیں مسترد کردیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکرحریم شاہ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

مبینہ منی لانڈرنگ کی8 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس اقبال کلہوڑو نے حریم شاہ کو 18 اپریل تک پیشی کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ پیش نہ ہوکرحکم عدولی کی گئی، عدالت نے ایف آئی اے کوگرفتاری سےروکا توحریم شاہ انگلینڈ سےترکی پہنچ گئیں۔

گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں عدالت نے استفسارکیا کہ عدالتی حکم کےباوجود درخواست گزارکیوں پیش نہیں ہوئیں۔ جس پرحریم شاہ کے وکیل نے بتایا کہ وہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے گئی ہیں، اس پرعدالت نے ایف آئی اے کیخلاف کارروائی کے لیے دائرکردہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ حریم شاہ وطن واپس آکر نئی درخواست دائر کرسکتی ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم کواتناغیرضروری سمجھتے ہیں توابھی درخواست نمٹادیتے ہیں ۔

اس سے قبل وکیل کا کہنا تھا کہ برطانیہ سے واپسی پر حريم شاہ کی گرفتاری کا خدشہ ہےاس لیےعدالت ایف آئی اے کو کارروائی سے روکے، جس پرسندھ ہائیکورٹ نے یکم فروری کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کوحریم شاہ کیخلاف کارروائی سے روکتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسرکو پیش ہونے کا حکم ديا تھا۔

حریم شاہ کے ریاستی اداروں پرسنگین الزامات، پاک فوج سے مدد مانگ لی

دوسری جانب حریم نے اپنے آفیشل انسٹاہینڈل پرویڈیوز شیئرکی ہیں جس میں شوہربلال شاہ کے ہمراہ مدینہ منورہ میں موجود ہیں۔

مبینہ منی لانڈرنگ کیس

ایف آئی اے نے جنوری 2022 کے اختتام پر بینکوں کوفضا حسین عرف حريم شاہ کے بینک اکاؤنٹس فریزکرنے کے لیے خط لکھاتھا، ٹک ٹاکرکے لاہوراورکراچی میں 2 اکاؤنٹس ہیں۔

اس خط کی وجہ حریم شاہ کی جانب سے سوشل میڈیاپراپ لوڈ کی جانے والی وہ ویڈیوبنی تھی جس میں وہ بھاری غیرملکی کرنسی دکھاتے ہوئے دعویٰ کررہی ہیں کہ یہ رقم وہ پاکستان سے لندن لے کرگئیں۔ حریم شاہ کاکہنا تھا کہ میں تو اتنی بڑی رقم لیکرآرام سے لندن پہنچ گئی لیکن کسی نے روکا نہیں، پاکستانی کرنسی کی کوئی اہمیت نہیں چاہے لاکھوں میں بھی ہو۔

ويڈيو وائرل ہونے پرايف آئی اے نےحريم شاہ کےخلاف تحقيقات کا آغاز کرتے ہوئےاکاؤنٹس منجمد کرنےکے لیےخط لکھاتھا، جس پرلندن میں موجود ٹک ٹاکرکاکہنا تھا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق ویڈیو مذاق میں بنائی تھی اوراپنی غلطی بھی تسلیم کرتی ہوں، نہ جانے ایف آئی اے کو مجھ سے کیا ذاتی خلش ہے، انہیں کیا حق ہے کہ میری ذاتی دستاویزات میڈیا کودے، اگرمیرے اکاؤنٹس منجمد کرنے ہیں توثبوت بھی دینا ہوں گے، میں پاکستان جا کرہرادارے کے ساتھ تعاون کے لیےتیارہوں۔

SINDH HIGH COURT

HAREEM SHAH

Tabool ads will show in this div