صدر کو4 سالوں میں 92 تحائف ملے،جس کی ماليت 45 لاکھ روپےہے

چارسال کےدوران20کروڑروپےسےزائدکے ماليت تحائف ملے

بيرونی ممالک سے پاکستان کی اہم شخصيات کو گزشتہ چار سال کے دوران بيس کروڑ روپے سے زائد ماليت کے تين سو انتيس تحائف ديئے گئے ہیں، جس میں صدر مملکت عارف علوی اور ان کی اہلیہ نمایاں ہیں۔

سما کے ہيڈ آف انويسٹی گيشن يونٹ زاہد گشکوری کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 4 برسوں ميں اہم پاکستانی شخصيات کيلئے 329 غير ملکی تحائف لائے گئے۔

اہم شخصيات کو 20 کروڑ 22 لاکھ روپے ماليت کے تحائف ملے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زيادہ تحائف صدر مملکت اور ان کی اہليہ کو ملے۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی کو 92 تحائف ملے، جس کی ماليت 45 لاکھ روپے ہے۔ سابق وزيراعظم عمران خان اور ان کی اہليہ کو 58 گفٹس ديئے گئے۔

طاہر اشرفی کے مطابق غیر قانونی کام ہوا ہے تو ایکشن ہونا چاہیے۔ تحائف ملنے سے متعلق قانون بنايا جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرعمران خان نے قانون کے خلاف کوئی چيز کی ہے اور توشہ خانے سے ان کو تحائف کو قانون کے خلاف ليا گيا ہے تو پھر ان کے خلاف حکومت کو ايکشن لينا چاہيے۔

چیئرمین پاکستان علما کونسل کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئيڈيل صورت حال تو يہ ہے کہ خان صاحب کہيں يہ تحائف تھے يہ اتنے ميں ميں نے ليے، اول تو يہ انہيں لينے ہی نہيں چاہيے تھے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ن لیگ کا شوشہ خانہ ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ بات سادہ ہے کیا کوئی گفٹ چھپا کے رکھا گیا جواب نہیں۔ سوال کیا قانون کے مطابق پورے پیسے جمع کروائے، جواب ہاں، پورے پیسے جمع ہوئے۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ کیا تمام چیزیں ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے پاس ڈکلئیر ہیں، جواب ہاں ڈکلئیر ہیں، عمران خان آپ کی طرح کا چور فراڈ نہیں۔

شہباز شریف

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف قواعد کے خلاف 14کروڑ روپے میں دبئی میں فروخت کیے، قیمتی تحائف میں ڈائمنڈ جیولری ، بریسلٹ، گھڑیاں اور سیٹ شامل ہیں۔

شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں ہر چیز قانون کے مطابق ہوگی۔

توشہ خانہ کا مطلب کیا ہے؟

توشہ خانہ فارسی زبان کا لفظ ہے. ریختہ ڈکشنری کے مطابق اس کے معنی ہیں وہ مکان جہاں امیروں کے لباس، پوشاک اور زیورات وغیرہ جمع رہتے ہیں۔ اردو لغت کے مطابق توشہ خانہ کے معنیٰ توشک خانہ یعنیٰ ساز و سامان کا پلندہ کے ہیں۔

توشہ خانہ کیا ہے؟

پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومتوں کی جانب سے ایک خاص مقام  کو مختص کیا جاتا ہے، جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداران کو ملنے والے بیش قیمت تحائف محفوظ کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی توشہ خانہ ایسی جگہ ہے جہاں دوسرے ممالک سے ملنے والے قیمتی تحائف محفوظ ہوتے ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات

گزشتہ حکومت کے دور میں ایک شہری کی جانب سے پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ملنے والے تمام تحفے، خاص طور پر وہ تحائف جو وزیر اعظم اور وزرا نے رکھے، ان کی تفصیل فراہم کی جائے۔

قانونی ماہرین کے مطابق حکومت یہ تفصیل جمع کروانے کی پابند بھی ہے مگر حکومت نے پی آئی سی میں یہ جواب جمع کروایا تھا کہ غیر ملکی تحائف کی تفصیل سے ان ممالک کے درمیان تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، اس لیے انہیں ملکی مفاد میں جاری نہیں کیا سکتا۔

توشہ خانے کے تحائف کا کیا استعمال ہوتا ہے؟

 سرکاری طور پر ملنے والے تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ تاہم جمع کروانے کے بعد 30 ہزار روپے تک مالیت کے تحائف صدر، وزیراعظم یا جس بھی شخص کو تحفتاً ملا ہو وہ مفت حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم 30 ہزار سے زائد مالیت کے تحائف کے لیے ان شخصیات کو اس کی قیمت کے تخمینے کا نصف ادا کرنا لازم ہوتا ہے جس کے بعد وہ اس کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔ قیمت کا تخمینہ ایف بی آر اور پرائیویٹ ماہرین لگاتے ہیں۔

پاکستان میں صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، صوبائی وزرائے اعلی، ججز، سرکاری افسران اور حتی کہ سرکاری وفد کے ہمراہ جانے والے عام افراد کو بیرون ملک دورے کے دوران ملنے والے تحائف توشہ خانہ کے ضابطہ کار 2018 کے تحت کابینہ ڈویژن کے نوٹس میں لانا اور یہاں جمع کروانا ضروری ہیں۔ جس کے بعد یا تو انہیں نصف قیمت پر خریدا جا سکتا ہے یا پھر انہیں سرکاری طور پر نیلام کر دیا جاتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ

دسمبر 2018 کے ضابطہ کار کے تحت تحفے میں ملنے والی گاڑیاں اور نوادرات خریدے نہیں جا سکتے، بلکہ گاڑیاں سرکاری استعمال میں آجاتی ہیں اور نوادرات صدر، وزیراعظم ہاؤس، میوزیم یا سرکاری عمارتوں میں نمائش کے لیے رکھے جاتے ہیں۔

 تحریک انصاف کی حکومت نے سال 2020 اکتوبر میں توشہ خانہ کے دو سو کے قریب تحائف کی نیلامی کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق ان اشیا کی نیلامی میں صرف سرکاری ملازمین اور فوج کے ملازمین حصہ لے سکتے ہیں۔

بعد ازاں اس نوٹیفیکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چلینج کر دیا گیا تھا جس کے بعد  لاہور ہائی کورٹ نے 25 مئی سال 2021 کو  توشہ خانے کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی کی پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ 

 لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ حکومت اس پر قانون سازی کرے۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ توشہ خانے کی چیزیں پبلک پراپرٹی ہیں۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ ان چیزوں کا عجائب گھر بنا دیں، عوام کو بولی میں شامل نہ کرنا دھتکارنے کے مترادف ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ ایک شہری کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کر رہی ہے جس میں عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ خیال رہے کہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس 7 ماہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

Tabool ads will show in this div