لاہورہائیکورٹ کاتمام سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ مختص کرنےکاحکم

جسٹس شان گل نے 26 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا

لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے اقلیتوں کا سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ مختص کرنےکے حوالےسےتاریخی فیصلہ جاری کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے تمام سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ مختص کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس شان گل نے 26 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ اقلیتی برادری کے افراد صرف نچلے درجے کی سرکاری ملازمتوں کے لیے اہل نہیں ہے بلکہ وہ اعلیٰ درجے کی سرکاری ملازمتوں کو میرٹ اور کوٹہ بیس پربھی اپلائی کرستے ہیں۔

فیصلے میں حوالے دیا گیا کہ قومی اسمبلی میں بھی 10 سیٹیں اقلیتوں کے لیے مختص کی گئی ہیں جبکہ 2017کی مردم شماری کے 75فیصد عیسائی پنجاب میں آباد ہیں،یہ بات پنجاب پر زیادہ ذمہ داری ڈالتی ہیں کہ ایسی سہولیات پیدا کریں کہ انہیں اپنی صلاحیتوں کےمطابق زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ قائدِ اعظم نے1941 میں اقلیتوں کومکمل حقوق دینے کا اعلان کیا تھا،پاکستان بننے کے 75برس بھی عیسائی برادری کوصرف معمولی ملازمتوں پرنوکری دی جاتی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔محکمہ تعلیم بھی یہ بتانے میں ناکام رہا کہ صرف خاکروب کی نوکری کےلیے ہی کیوں 5 فیصد کوٹہ مختص کیاگیا اوراقلیتوں کےلیے دوسری نوکریوں میں کوٹہ کیوں نہیں مختص کیا گیا۔

عدالت نے حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت کردی۔

درخواست کس نے دائر کی تھی

عدالت نے غیر مسلم سبیل لطیف کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزارنے موقف اختیار کیا کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی میں مختلف آسامیوں پربھرتی کےلیےاشتہارجاری کیا،اشتہارمیں صرف خاکروب کی کیٹگری میں اقلیتوں کےلیے 5 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا۔

درخواست گزارکا یہ بھی کہنا تھا کہ خاکروب کےلیے اقلیتوں کے لیے کسی دوسری اسامی میں کوٹہ مختص نہیں کیا گیا،آئین پاکستان کے تحت مینارٹیز کو سرکاری ملازمتوں کا حق حاصل ہے۔

درخواست گزار کے مطابق شہری نے ملتان کے اسکول میں چوکیدار کی آسامی پر درخواست دی،عدالت نے شہری کی درخواست کومنظورکرتے ہوئے ملازمت جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

PUNJAB

MINORITIES

JOB QUOTA

Tabool ads will show in this div