آزاد جموں کشمیر ہائی کورٹ نے اسپیکر اسمبلی کی کاروائی کو کالعدم قرار دے دیا

انتخاب تین روز کے لیے روک دیا

آزاد جموں کشمیر ہائی کورٹ نے اسپیکر اسمبلی کی کاروائی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قائدایوان کا انتخاب تین روز کے لیے روک دیا۔

آزاد جموں کشمیر ہائی کورٹ نے رولنگ دی ہے کہ قائد ایوان کی انتخاب کے لئے جاری پراسس پیر تک روک دیا گیا ہے۔عدالت نے اس سلسلے میں مختصر حکم جاری کردیا ہے۔

چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے اپنے ہی وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی، جس پر ووٹنگ کیلئے 15 اپریل کو اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

جمعرات 14 اپریل کو وزیراعظم آزاد کشمیر سردارعبدالقیوم نیازی نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل ہی استعفیٰ دےدیا،انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر آزاد کشمیر کو بھجوادیا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے 53 کے ایوان میں سے 27 ارکان کی حمایت درکار تھی، قانون ساز اسمبلی کے کل 53 ارکان میں سے پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 31 ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور پیپلزپارٹی کے رہنماء چوہدری یاسین نے سابق وفاقی وزراء اسد عمر اور علی امین گنڈا پور پر آزاد کشمیر میں ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اے ٹی ایم کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کی، ان کا بیانیہ وفاق میں الگ اور آزاد کشمیر میں الگ ہے۔

high court

Tabool ads will show in this div