یوکرین کا میزائل حملہ،روس کا جنگی جہاز ڈوب گیا

بحیرہ اسود میں اپنی طرز کا یہ واحد قسم کا جہاز تھا
Apr 15, 2022

يوکرين جنگ میں اہم موڑ اس وقت دیکھنے میں آیا جب یوکرین کے میزائل حملے سے 12 ہزار 500 ٹن وزنی روس کا جنگی جہاز موسکوا تباہ ہوکر ڈوب گيا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق 14 اپریل جمعرات کی علی الصبح دارالحکومت کییف میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اس دوران یوکرین کے بیشتر علاقوں میں فضائی حملوں سے خبردار کرنے والے سائرن بھی بجتے رہے۔ اس دوران یوکرین کی جانب سے بھی روس حملوں کا تابڑ توڑ جواب دیا گیا۔ بعد ازاں یوکرین نے میزائل حملہ کرتے ہوئے سيواستوپول بندرگاہ کريميا کے قريب بحر اسود ميں روسی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا، جس سے وہ ڈوب گيا۔

بارہ ہزار 500 ٹن وزنی روسی جنگی جہاز موسکوا متعدد اینٹی شپ اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس تھا اور بحیرہ اسود میں اپنی طرز کا یہ واحد قسم کا جہاز تھا۔

اس موقع پر يوکرين کے صدر زيلينسکی نے جنگ کے 50 روز تک کامياب مزاحمت پر عوام کو خراج تحسين پيش کيا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ روس کے پاس موسکوا معيار کے صرف 3 جنگی جہاز ہيں، جن ميں سے ايک تباہ ہوچکا ہے۔ دوسری جانب ڈونيسک اور لوہانسک ميں چوبيس گھنٹوں کے دوران يوکرين کی فوج نے روس کے آٹھ حملے ناکام بنائے۔ يوکرين کے صدر زيلينسکی کا کہنا تھا کہ روس ہميں نہيں جانتا، يوکرين پر حملہ حماقت تھا اور يہ روس کے ليے خودکشی کے مترادف ہوگا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل روس نے جنگی جہاز پر حملے کو جعلی خبر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنگی جہاز آگ لگنے کی وجہ سے ڈوبا ہے۔

دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ روس کا جنگی جہاز ڈوبنے سے ماسکو کی جنگی صلاحیتوں پر اثر پڑے گا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ بحیرہ اسود میں ان کے بحری بیڑے کیلئے یہ ایک بڑا دھچکا ہے، یہ... بحیرہ اسود میں بحری تسلط قائم کرنے کی ان کی کوششوں کا ایک اہم حصہ تھا۔

ادھر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے جمعرات کو خبردار کیا کہ ماسکو یوکرین میں ہونے والی ناکامیوں کے تناظر میں ٹیکٹیکل یا نچلی سطح والے جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''صدر پوٹن اور روسی قیادت کی ممکنہ مایوسی اور اب تک عسکری طور پر انہیں جن دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، ا س کے پیش نظر، ہم میں سے کوئی بھی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں یا نچلی سطح کے جوہری ہتھیاروں کا ممکنہ استعمال کے خطرے کو ہلکے میں نہیں لے سکتا۔''

چوبیس فروری کو حملہ شروع ہونے کے فوری بعد روس نے اپنی جوہری افواج کو ہائی الرٹ پر کر دیا تھا۔ تاہم برنز کا کہنا ہے کہ امریکا نے ابھی تک جوہری ہتھیاروں کی حقیقی تعیناتی کے کوئی ''بہت زیادہ عملی ثبوت'' نہیں دیکھے ہیں۔

RUSSIA

MOSKVA

WARSHIP IN

Tabool ads will show in this div