مونال بحالی کاحکم امتناع واپس لینےکی استدعامسترد

حکم امتناع کی واپسی چاہتے ہیں تو باضابطہ درخواست دائرکریں

سپریم کورٹ نےاسلام آباد کےمونال ریسٹورنٹ بحالی کا حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد کردی۔

سپریم کورٹ میں مونال ریسٹورنٹ سیل کرنےکےخلاف اپیل پرسماعت ہوئی۔سپریم کورٹ نےمونال بحالی کاحکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد  کردی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ حکم امتناع کی واپسی چاہتے ہیں تو باضابطہ درخواست دائرکریں۔وائلڈلائف بورڈ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکم امتناع کے حکم پر نظرثانی دائر کرنی پڑے گی،مونال کا سارا سیوریج اسلام آباد میں پھیل رہا ہے۔ جس پر وکیل مونال مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے ساتھ غلط بیانی سے کام لیا جا رہا ہے،ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا،انٹراکورٹ اپیل اسی وجہ سے زیر التوا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن  نے ریمارکس دئیے کہ جو آپ کو مناسب لگتا ہے وہ کریں۔

سپریم کورٹ کامونال ریسٹورنٹ ڈی سیل کرنےکا حکم

آٹھ مارچ کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد کے مونال ریسٹورنٹ کو ڈی سیل کرنے کا حکم دیا تھا۔ مونال کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہائیکورٹ کے مختصر حکم کی تصدیق شدہ کاپی دستیاب ہے نہ تفصیلی فیصلہ،انٹرا کورٹ اپیل 2 مرتبہ مقرر ہوئی لیکن سماعت سے قبل ہی کیس منسوخ ہوگیا۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا تھا کہ سی ڈی اے اور مونال کے تنازع کا فیصلہ متعلقہ سول کورٹ ہی کرے گی۔عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا غیر دستخط شدہ مختصر حکم نامہ معطل کردیا تھا۔

جب مونال ریسٹورنٹ سیل کیا گیا

گیارہ جنوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں مقامی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے مونال ریسٹورنٹ سیل کردیاتھا۔ اسسٹنٹ کمشنر سٹی موسیٰ طاہر نے ریسٹورنٹ پر نوٹس چسپاں کرکے اور سیل لگائی تھی۔

ریسٹورنٹ کوعارضی بنیادوں پر کھولنے کی استدعا مسترد

چوبیس فروری کو سپریم کورٹ نےمونال ریسٹورنٹ کوعارضی بنیادوں پر کھولنے کی استدعا مسترد کردی تھی۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی کوئی ٹھوس حکم دے سکیں گےاوراگر2 ہفتے تک تفصیلی فیصلہ نہ آیا تو مناسب حکم جاری کرینگے۔

مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ دستخط ہونے تک حکمنامہ میں تبدیلی ہوسکتی ہے،وائلڈ لائف بورڈ کیس میں فریق نہیں تھا، بغیرتحریری حکم کیسے قبضہ لے سکتا ہے؟ اس علاقے میں مونال کےعلاوہ 13 ریسٹورنٹ مزید چل رہے ہیں لیکن ہائیکورٹ نے مونال کو بند کردیا جبکہ دیگر کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے تھے کہ تکنیکی طور پر آپ کی بات درست ہے،وزارت دفاع کی فریق بننے کی استدعا پر فی الحال فیصلہ نہیں کرسکتے۔ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے تک وزارت دفاع کی درخواست زیرالتواء رہے گی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ مونال کی زمین وفاق کی ملکیت ویٹنری فارمز کو دی گئی ہے،ویٹنری فارمز جی ایچ کیو کے ماتحت ہیں، ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نیشنل پارک کی زمین ویٹنری فارمز کو نہیں دی جا سکتی۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے تھے کہ مناسب ہوگا کہ وزارت دفاع انٹراکورٹ اپیل میں اپنا موقف پیش کرے۔

عدالت نے محکمہ وائلڈ لائف کی فریق بننے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی تھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مئی سال 2020 میں پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ مارگلہ ہلز کا وہ حصہ جہاں مونال واقع ہے وہ فوج کے ادارے ملٹی فارم گراس لینڈ کی ملکیت ہے،اس کے بعد انتظامیہ نے اگست 2019 سے لیز کی رقم سی ڈی اے کے بجائے ملٹری گراس فارم لینڈ کو دینا شروع کردی تھی۔

ISLAMABAD HIGH COURT

MONAL RESTURANT

Tabool ads will show in this div