ہائیکورٹ نےڈپٹی اسپیکرکے اختیارات بحال کرنےکی اپیل پرفیصلہ محفوظ کرلیا

فریقین کے وکلا کو مکمل سن کر فیصلہ کریں گے
Apr 15, 2022

[video width="1280" height="720" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/2022/04/Depty-speaker-ikhtiyarat-bahal.mp4"][/video]

 

لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے اختیارات بحال کرنے سے متعلق دائر اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات بحال کرنے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی۔ جسٹس شجاعت علی خان کی سربراہی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نےسماعت کی۔

عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب سمیت دیگر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

عدالت میں (ق)لیگ نےڈپٹی اسپیکر کے اختیارات بحال کرنے کے اقدام کوچیلنج کیا اور موقف اختیار کیا کہ ڈپٹی اسپیکروزیر اعلی پنجاب کا انتخاب نہیں کروا سکتا،ڈپٹی اسپیکر جانبدار ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

جسٹس شجاعت علی خان نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے کہ حمزہ شہباز کی درخواست کے بعد دوست مزاری نے درخواست دائر کی۔

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بتایا کہ میں نےاجلاس بلوایا جس کے بعد میرے اختیارات کوختم کردیا گیا،میں نےاجلاس اس لیے طلب کیا تھا کیونکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نےسپریم کورٹ میں ووٹنگ کی یقین دہانی کروائی،اسمبلی کی تاریخ میں ایسی آمریت کی مثال نہیں ملتی،اسمبلی کو نوگوایریا بنایا گیا۔

ڈپٹی اسپیکرکواختیارات واپس دینےکے خلاف دائراپیل سماعت کیلئےمقرر

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کا کہنا تھا کہ 5 اپریل کواسمبلی کا اجلاس طلب کیا جو کہ جھگڑے کے باعث 6 اپریل تک ملتوی کیا گیا۔

جسٹس جواد نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ اجلاس طلب کرتے وقت ڈپٹی اسپیکرکی بدنیتی تھی یا نہیں،ہم نےآئین و قانون کے مطابق  فیصلہ کرنا ہے اورہم فریقین کے وکلا کو مکمل سن کر فیصلہ کریں گے۔

عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ تمام ممبران کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور ووٹنگ کے وقت کسی قسم کی کوئی بدمزگی نہیں ہونی چاہیے،اچھے اور سلجھے ہوئےطریقے سے ہفتےکوووٹنگ ہونی چاہیے۔

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ چیف سیکرٹری کو بھی سارے پراسس میں قانون کے مطابق تعاون کرنا ہے اورچیف سیکرٹری آئی جی پنجاب کی معاونت کریں گے۔

ڈپٹی اسپیکرنےعدالت کو بتایا کہ میں پی ٹی آئی کا ڈپٹی اسپیکرہوں،انہوں نے میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک  پیش کردی،قانون کے تحت اسپیکر کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر اسمبلی اجلاس کی صدارت کریں گے۔

جسٹس جواد نے ریمارکس دئیے کہ رولز آف بزنس اور اسمبلی رولز میں واضح ہے کہ کسی کی عدم موجودگی میں کون اجلاس کی صدارت کرے گا۔

ڈپٹی اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ شفاف انتخابات کروانےکےلیےعدالت اپنا نمائندہ بھی مقررکردے۔

(ق)لیگ کےوکیل علی ظفر نے بتایا کہ عدالتوں کو پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے،سنگل بنچ نے حقائق کے برعکس فیصلہ جاری کیا اور16

اپریل تک اجلاس ملتوی کرنا قانونی عمل ہے،دوست مزاری اجلاس کی صدارت کےاہل نہیں رہے،پینل آف چیرمین موجود ہے اور قانون کے مطابق ان میں سے کوئی صدارت کرسکتا ہے۔

PUNJAB ASSEMBLY

PML Q

Tabool ads will show in this div