ماضی کی بےمثال سواری نایاب ہوگئی

جیب پر بھاری پڑتا تھا

اطالوی کمپنی کا تیار کردہ نیلے رنگ کا ویسپا 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستان میں اعلیٰ رتبے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ جدید موٹرسائیکلوں کی بھرمار میں یہ سواری سڑکوں سے غائب ہوگئی۔

ماضی میں معزز لوگوں کی سواری ویسپا کو جانا جاتا تھا۔راولپنڈی میں اب خال خال ہی ویسپا نظر آتے ہیں۔ 60 اور 70 کی دہائی میں شہر کی سڑکوں پر اِن کی بھرمار ہوا کرتی تھی۔تاہم اب نہ پہلے کی طرح ویسپا موٹرسائیکل رہےنہ ان کے ماہر کاریگر موجود ہیں۔

سماء سے بات کرتے ہوئے ویسپا کےکاریگرشہباز نے بتایا کہ اس کے ہاتھ سے تیار ویسپا کویت اور سعودی عرب تک جا چکے ہیں لیکن اب اِس کے اسپئیر پارٹس ملنا بہت مشکل ہے۔

ویسپا کو قصہ پارینہ بنانے میں اِس کی شاہ خرچی کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو اپنے سوار کی شان کا خیال تو رکھتا تھا مگر جیب پر بھاری پڑتا تھا۔ماضی میں سڑکوں پر راج کرنے والا ویسپا اب صرف ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔

vespa

Tabool ads will show in this div