ميرا وزير خارجہ بننا پارٹی کو ہضم نہيں ہوگا، بلاول بھٹو

موروثي سياست ہرجگہ ہے،عوامي فيصلے کي اہميت ہوتي ہے
Apr 15, 2022

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/2022/04/BILAWAL-CNN-INTERVIEW-NEW-PKG-13-04-Zaki.mp4"][/video]

امریکی ٹی وی سی این این کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران جب اینکر نے بلاول سے سوال کیا گیا کہ کيا پاکستان ميں مسائل کی وجہ موروثی سياست ہے؟، جس پر بلاول سے کوئی جواب نہ بنا تو وضاحتيں دينے لگے۔ وزیر خارجہ بننے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ پارٹی کو ہضم کرنا مشکل ہوگا۔

وزیر خارجہ کون ہوگا؟

بدھ 13 اپریل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے وزیر خارجہ بنانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، یہ معاملات پارٹی نے طے کرنے ہیں۔ میرا وزیر خارجہ بننا ہماری پارٹی کے لیے مشکل ہوگا کیونکہ پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کی دوسری بڑی جماعت ہے۔ پارٹی ملکی مفاد ميں جو فيصلہ کرے گی قبول ہوگا۔

عمران خان کی عوامی مقبولیت

اینکر کی جانب سے عمران خان کی عوام ميں مقبوليت کے سوال پر بلاول بولے کہ دنيا بھر ميں ہر فاشسٹ کو حمايتی مل جاتے ہيں۔ عمران خان پارليمنٹ ميں صرف تيس فيصد عوام کی نمائندگی کرتے ہيں۔ عمران خان نے امريکی سازش کا بڑا جھوٹ بولا۔ عمران نے 70 فيصد عوام کے نمائندوں کو غدار قرار ديا۔ عمران خان نے اپنا اقتدار بچانے کیلئے خطرناک کھيل کھيلا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حال ہی میں وہی تجربہ ہوا جو امریکی عوام کو 6 جنوری کے ٹرمپ کے واقعے میں ہوا تھا۔ عمران خان نے آئینی بغاوت کی کوشش کی ، عمران خان کے ٹرمپ سے بھی اچھے تعلقات تھے۔

امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں بلاول نے مزید کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں لیکن اُس کے لیے انتخابی اصلاحات لازمی ہیں۔

بلاول نے مزید کہا کہ امریکا چاہے کتنا ہی موروثی سیاست اور اقربا پروری پر تنقید کیوں نہ کرے، حقیقت یہ ہے کہ آخر میں اہمیت اسی بات کی ہے کہ پاکستانی عوام کسے منتخب کرتے ہیں۔

PTI

IMRAN KHAN

BILAWAL BHUTTO

Tabool ads will show in this div