سووں گا نہ سونے دونگا،وزیراعظم شہباز شريف

بيورو کريسی اور سی ڈی اے حکام کو بھی جگا ديا
Apr 14, 2022

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد ایئرپورٹ میٹرو منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قوم کا پیسہ ہے، عوامی مفاد کے منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے میٹرو منصوبے میں التوا کی انکوائری کا حکم بھی دے دیا۔

جمعرات 14 اپریل کی صبح سات بجے وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور موڑ تا نیو اسلام آباد ایئرپورٹ میٹرو منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے رہنما احسن اقبال، مریم اورنگزیب، مفتاح اسماعیل بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزير اعظم شہباز شريف صبح سويرے ميٹرو بس روٹ کے دورے پر پہنچے تو شہر اقتدار کی بيورو کريسی اور سی ڈی اے حکام کو بھی جگا ديا۔

منصوبہ ميں تاخير پر حکام کو جھاڑ پلا دی اور کہا کہ عوامی مفاد کا منصوبہ تاخير کا شکار نہيں ہونا چاہيے تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے چار سال سے التوا کے شکار منصوبے کا جائزہ لیا۔ سی ڈی اے کے چیئرمین عامر احمد علی کی جانب سے وزیراعظم کو منصوبے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

منصوبے میں کیا ہے

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد میٹرو کے لیے 15 بسیں مہیا کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے چار سال سے منصوبہ التوا کا شکار ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ التوا کا کوئی جواز نہیں بنتا، جہاں تک میٹرو مکمل ہے وہاں سے ایئرپورٹ تک شٹل سروس چلا کے اس کو فعال کر سکتے ہیں کیا مشکل ہے؟۔ انہوں نے منصوبے کے التوا کی وجوہات کا پتا لگانے کے لیے حکم دیا کہ میٹرو منصوبے کے التوا کی تحقیقات ہونی چاہییں اور ایک کمیٹی بنائی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے پر اب تک 16 ارب روپے کے قریب خرچ ہوچکے ہیں، عوام کا خیال کریں، منصوبے کی جلد تکمیل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موٹر وے پر اسلام آباد میٹرو کا ایک اسٹیشن ہونا چاہیے، میٹرو بسوں میں سامان رکھنے کا انتظام بھی ہونا چاہیے۔ اس موقع پر افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد میٹرو کیلئے 15 بسیں مہیا کی جارہی ہیں، ابتدائی طور پر ہفتے کے روز سے بسیں چلائی جائیں گی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ قوم کا پیسہ ہے، عوام کا خیال کریں۔ نہ خود سووں گا اور نہ سونے دوں گا۔

مریم اورنگزیب

مسلم لیگ نواز (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سی ڈی اے کو ہفتہ 16 اپریل کو میٹرو بس سروس پشاور روڈ سے ایئرپورٹ تک چلانے کا حکم دیا ہے۔ بہارہ کہو اور روات سے پشاور موڑ تک میٹرو سروس چلانے اور موٹر وے کنیکشن کی فیزیبیلٹی فوری بنانے کا حکم دیا ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف سات بجے اسلام آباد میٹرو بس پر جاری کام کا جائزہ لینے پشاور موڑ میٹرو بس پہنچے۔ منصوبہ وزیراعظم نواز شریف کے دور میں 2017 میں شروع ہوا جو 2018 میں مکمل ہونا تھا۔ پانچ سال کی تاخیر سے منصوبہ شروع نہ ہوا۔ اسی نالائقی نااہلی کی وجہ سے بیرونی ملک سازش کے جھوٹ کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔

اسلام آباد ایئر پورٹ

اگرچہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نئے بین الااقوامی ایئر پورٹ کو آپریشنل ہوئے چار سال گزر چکے ہیں مگر یہاں پر مسافروں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا آغاز نہیں کیا جا سکا۔

زیادہ تر مسافر ایئرپورٹ آنے جانے کیلئے ذاتی ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں، لیکن بہت سے مسافر اور ایئرپورٹ کا عملہ ایسا ہے جو زیادہ آمدن نہ ہونے کی وجہ سے ذاتی ٹرانسپورٹ یا مہنگی پرائیویٹ ٹیکسی کے اخراجات ادا نہیں کر سکتا اور انہیں یہاں آمدورفت کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پرائیوٹ ٹیکسی والے مسافروں سے منہ مانگے اور ہزاروں میں کرائے وصول کرتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایئر پورٹ کے افتتاح کے وقت یہاں سے میٹرو بس سروس کے اجرا کی منظوری بھی دی گئی تھی اور ن لیگ کے دور حکومت میں اس پر کافی کام ہوا تھا۔ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے میٹرو پراجیکٹ کا چارج نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے لیا اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اس کی تکمیل کی ذمہ داری سی ڈی اے کو منتقل کی تھی۔

METRO BUS

Tabool ads will show in this div