پاکستانی ڈاکٹر کا کارنامہ، 103سالہ شخص کو کوکلیئر امپلانٹ لگادیا

عالمی ریکارڈ قائم، کامیاب آپریشن برطانیہ میں کیا گیا، رپورٹ

پاکستانی ڈاکٹر نے برطانیہ میں 103 سالہ شخص کو کوکلیئر امپلانٹ لگاکر عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔

انٹرنیشنل میڈیکل ریلیف ایمرجنسی (آئی ایم آر اے) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سید محمد قیصر سجاد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی ڈاکٹر اور انٹرنیشنل میڈیکل ریلیف ایمرجنسی کے رکن نے برطانیہ میں 103 سالہ معمر شخص کو کامیابی سے کوکلیئر امپلانٹ لگاکر عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نوید کو مبارکباد بھی پیش کی ہے۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ یہ آپریشن ڈاکٹر نوید احمد نے اپنی ٹیم کی سربراہی کرتے ہوئے برطانیہ کے جیمز کُک یونیورسٹی اسپتال میں لیزلی ہوجسن نامی شخص کا کیا، اور اب ان کی سماعت مکمل طور پر بحال ہوگئی ہے، انسانی تاریخ میں پہلی بار کسی معمر شخص کو کوکلیئر امپلانٹ لگایا گیا ہے۔

واضح رہے گزشتہ برس امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 102 سالہ معمر شخص کو کوکلیئر امپلانٹ لگایا جاچکا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیکل ریلیف ایمرجنسی کے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈاکٹر نوید احمد پاکستانی ڈاکٹر ہیں، ای این ٹی کنسلسٹنٹ، اسکل بیس اور آڈیٹری امپلانٹ سرجن ہیں، وہ اِمرا کے فعال رکن ہیں اور برطانیہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر نوید احمد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ برطانییہ کے جیمز کُک یونیورسٹی اسپتال میں 103 سالہ شخص لیزلی ہوجسن کے کان میں آپریشن کے ذریعے کوکلیئرامپلانٹ لگایا ہے۔

کوکلیئرامپلانٹ کیا ہے؟

ڈاکٹر سید محمد قیصر سجاد ناک، کان اور حلق ( ای این ٹی ) اسپیشلسٹ اور ہیڈ اینڈ نیک سرجن بھی ہیں، انہوں نے بتایا کہ  یہ ایک چھوٹا برقی طبی آلہ ہے جو جراحی کے ذریعے کان کے پیچھے کی ہڈی (ٹیمپورل بون) کے اندر سوراخ کرکے دماغ کے قریب کوکلیہ (یوں سمجھ لیں یہ ایک ایمپلی فائر ہے) کی جگہ لگاتے ہیں، یوں سمجھ لیجئے کہ پیدائشی طور پر کوکلیہ موجود نہیں ہے، یا اگر بنا ہے تو ٹھیک سے کام نہیں کررہا ہے، یا عمر کے ساتھ ساتھ اس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، تو اس کی جگہ پر مصنوعی کوکلیہ بناکر لگادیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوکلیئر امپلانٹ ان لوگوں کو جو بہرے ہیں، سماعت سے محروم ہیں، انہیں آواز کی حس فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنے ارد گرد کی آوازوں اور شور کو سن اور سمجھ سکیں۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ کوکلیئر امپلانٹ بڑی عمر کے لوگوں میں نہیں لگایا جاتا ہے، جہاں تک میرے علم میں ہے یہ پہلی بار بڑی عمر کے فرد کو لگایا گیا ہے، جو پیدائشی گونگے بہرے بچے ہوتے ہیں انہیں ڈھائی 3 سال کی عمر سے 7 سال تک لگایا جاتا ہے، اس کے ساتھ بچے کی اسپیچ تھیراپی ہوتی ہے، ساتھ ہی ماں باپ کو ٹریننگ دیتے ہیں یوں بچہ 6 ماہ سے ایک سال میں بولنا شروع کردیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بچے جو پیدائشی سماعت سے محروم ہوتے ہیں وہ چونکہ سن نہیں سکتے، اس لئے وہ بول بھی نہیں سکتے اور کوکلیئر امپلانٹ لگنے کے بعد وہ بولنا بھی شروع کردیتے ہیں کیونکہ وہ سننا شروع کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ بچے جو انتہائی طاقتور ہیئرنگ ایڈ کے ساتھ بھی نہیں سن سکتے، انہیں کوکلیئر امپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان میں اب تک ایک سو سے زائد بچوں میں کوکلیئر امپلانٹس کرچکے ہیں، یہ ایک مہنگا آلہ ہے جو صرف 3 ممالک بناتے ہیں، ہر امپلانٹ کی لاگت 14 ہزار ڈالر ہے اور پورے پیکیج بشمول 2 سال کی بحالی کی کل لاگت 25 ہزار ڈالر بنتی ہے۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ اِمرا 2012ء سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دنیا بھر کے بچوں کو کوکلیئر امپلانٹ مفت لگا رہی ہے، کراچی سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں مفت میڈیکل کیمپس لگاکر بہتے کان کی سرجری اور کوکلیئر امپلانٹ سرجری مفت کی جاتی ہے، بہتے کان کی بیماری بھی ایک مہلک بیماری ہے جو کان کی پیپ دماغ میں داخل ہونے سے موت کا سبب بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ امید کر سکتے ہیں کہ بڑی عمر کے افراد کے ٹیسٹ اور اسیسمنٹ کرکے فیصلہ کیا جائے گا کہ انہیں کوکلیئر امپلانٹ لگ سکتا ہے یا نہیں، ای این ٹی کے ساتھ ساتھ آڈیولوجسٹ ( کان کا ماہر) اس کا فیصلہ کرے گا، جن لوگوں کو نرو ڈیفنیس ہوجاتی ہے، انہیں عمر کے ساتھ ساتھ کم سنائی دیتا ہے، ٹیسٹ کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتنی سماعت کم ہوئی ہے، اسی حساب سے انہیں ہیئرنگ ایڈ (آلۂ سماعت) لگایا جاتا ہے، اس کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔

Tabool ads will show in this div