وزيراعلیٰ سندھ نيب زدہ افسرکوچيف سيکريٹری لگوانے ميں کامياب

وفاقی حکومت بدلتے ہی مراد علی شاہ کی مراد پوری ہوگئی

وفاقی حکومت بدلتے ہی وزير اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ من پسند اور نيب زدہ افسر کو چیف سیکریٹری سندھ لگوانے ميں کامياب ہو گئے۔

سہيل راجپوت وزيراعلیٰ سندھ کے ساتھ نوری آباد ريفرنس ميں نامزد ہونے کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کے جعلی بلوں کی ادائيگی کے کيس ميں بھی شامل تفتيش ہيں۔

سہيل راجپوت پر بطور سیکریٹری خزانہ ساڑھے3ارب روپے کے جعلی بلوں کی ادائیگی کاالزام ہے۔ سہیل راجپوت کے ساتھ 3 دیگر فنانس سیکریٹریز، اے جی سندھ بھی شامل تفتيش ہے۔ نیب جعلی بل اسکینڈل میں ٹھیکیداروں سے 30کروڑ روپے برآمد کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے 12 اپریل کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے سینئر ترین افسر ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت کو چیف سیکریٹری سندھ تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ رواں سال ممتاز علی شاہ کے چیف سیکریٹری سندھ کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد یہ عہدہ خالی تھا۔

 حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سہیل راجپوت وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری اور کمشنر کراچی بھی رہ چکے ہیں۔

CM Sindh Murad Ali Shah

Chief Secretary of Sindh

Tabool ads will show in this div