ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کالعدم قراردینےکےفیصلےپر نظرثانی درخواست تیار

اسپیکر رولنگ اوراسمبلی تحلیل کا فیصلہ بحال کرے

[video width="1080" height="1080" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/2022/04/WhatsApp-Video-2022-04-09-at-4.16.32-PM.mp4"][/video]

پاکستان تحریک انصاف نےقومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں دائر کرنے کےلیے نظرثانی درخواست تیار کرلی۔

پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست آج ہی دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آرٹیکل 69 پارلیمانی کارروائی اور رولنگ کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،عدالت نے اپنے فیصلے میں آرٹیکل 69 کا درست جائزہ نہیں لیا۔

درخواست میں بتایا گیا کہ عدالتی فیصلے سے آئین میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کی نفی ہوئی۔

استدعا کی گئی کہ عدالت حکم نامے پرنظرثانی کرتے ہوئےاسپیکر رولنگ اوراسمبلی تحلیل کا فیصلہ بحال کرے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کیخلاف 3 اپریل کو اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی تھی۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کردیا تھا۔

وزیراعظم نے اسی روز قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ صدر مملکت سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی درخواست کردی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسی روز (اتوار 3 اپریل کو) وزیراعظم کی سفارش پر قومی اسمبلی تحلیل کردی تھی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سیاسی بحران پر 3 اپریل کو ہی ازخود نوٹس لیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے 5 روز تک اہم ترین کیس کی سماعت کی۔

جمعرات کو حتمی دلائل کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلہ شام ساڑھے 7 بجے سنانے کا اعلان کیا۔

سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے متفقہ طور پر سنایا۔

عدالت عظمیٰ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور وزیراعظم کی اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز کو کالعدم قرار دیدیا۔

سپریم کورٹ نے صدر کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنا آئین سے متصادم قرار دیدیا۔

قومی اسمبلی بحال کی جاتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کو عہدوں پر بحال کردیا۔

وزیراعظم، تمام کابینہ ارکان، مشیران اور وزراء کو بحال کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ

قومی اسمبلی کا اجلاس 9 اپریل کو بلایا جائے، عدالت عظمیٰ

تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہفتے کو صبح 10 بجے کرائی جائے، حکم

اسپیکر ووٹنگ کرائے بغیر اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہ کریں، عدالتی حکم

تحریک عدم اعتماد منظور ہوجائے تو اسمبلی فوری نیا وزیراعظم منتخب کرے، سپریم کورٹ

کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے نہ روکا جائے، حکم

تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر موجودہ حکومت اپنے امور انجام دیتی رہے، عدالتی حکم

صدر کے نگراں حکومت کے احکامات کالعدم قرار، سپریم کورٹ

نگراں حکومت اور نگراں وزیراعظم کے نام کی سفارش کے صدارتی احکامات بھی کالعدم

PTI

Tabool ads will show in this div