نظریہ ضرورت دفن، ہماری ڈکشنری میں انتقام کالفظ نہیں، شہبازشریف

اپوزیشن نے عدالتی فیصلے کو جمہوریت وآئین کی جیت قراردیدیا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/2022/04/Shahbaz-Sharif-Talk-Isb-07-04.mp4"][/video]

متحدہ اپوزیشن نے سپریم کے فیصلے جمہوریت، آئین اور عوام کی فتح قرار دیدیا۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ ہماری ڈکشنری میں انتقام کا لفظ نہیں، ایوان کو سنہری روایات کے مطابق چلانے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں گے۔

اسلام آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دے کر اسمبلیاں بحال کرنے اور ہفتہ کو عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے فیصلے کو جمہوریت، آئین، پاکستان اور عوام کی فتح قرار دیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے نے پاکستان کے مستقبل، آئین اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کو محفوظ کیا، عدالت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ماضی کے تمام نظریہ ضرورت کے فیصلوں کو دفن کردیا، آئندہ قیامت تک کوئی نظریہ ضرورت کا سہارا نہیں لے سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار، قومی اسمبلی بحال

انہوں نے کہا کہ یہ نہ کسی کی ہار ہے نہ کسی جیت، یہ انصاف، آئین، پاکستان اور عوام کی جیت ہے، یہ عدلیہ کی بھی جیت ہے جنہوں نے صرف میرٹ کو سامنے رکھ کر فیصلہ دیا، آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں سنہرے حروف میں یاد رکھا جائے گا۔

وزیراعظم کیلئے پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار کا کہنا تھا کہ اس لڑائی میں متحدہ اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کے سربراہان، اتحادیوں اور آزاد اراکین نے حق گوئی کیلئے ہمارا ساتھ دیا جس پر شکریہ ادا کرتے ہیں، اگلا مرحلہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا ہے، اجتماعی قوت کے ساتھ یہ مرحلہ بھی کامیابی سے طے کریں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق لیڈر آف دی ہاؤس کا چناؤ کریں گے، مشاورت کے ساتھ مل کر ملک کے عوام کی بلاتفریق حتیٰ المقدور خدمت کریں گے، اب یہ بوجھ ہمارے کاندھوں پر ہے، اس مرحلے کو بھی کامیابی سے طے کریں گے۔

مزید جانیے: وزیراعظم عمران خان جمعہ کو قوم سے خطاب کرینگے

مسلم لیگ ن کے صدر کا کہنا تھا کہ ہماری ڈکشنری ميں انتقام کا لفظ نہيں، قانون اپنا راستہ بنائے گا،  ہمیں غیب یا نیب کا علم نہیں، نیب نیازی گٹھ جوڑ کو توڑ کر رہیں گے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف والے استعفیٰ ديتے ہيں تو ان کی مرضی، ہم انشاء اللہ ایوان کو سنہری روایات کے مطابق چلانے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پوری کوشش کریں گے۔

انہوں نے وزیراعظم نامزد کرنے پر اپنی پارٹی اور متحدہ اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم انتخابی اصلاحات کيلئے تمام پارليمانيی جماعتوں سے رجوع کریں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اللہ نے ہم پر اور ہماری قوم پر نظام انصاف اور عدالتوں پر ہمارا اعتماد بڑھایا ہے، تاریخی فیصلہ تھا، یہ فیصلہ جمہوریت، ایوان اور نظام و معیشت و معاشرت کے حق میں ہے، امید کرتے ہیں کہ نئی قیادت ایسا پاکستان دے گی جو ہر زبان بولنے والوں کو برابر کا وفادار اور حق دار سمجھا جائے گا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اس جیت کو پاکستان اور جمہوریت کی جیت قرار دیا، بولے کہ اس کی وجہ سے جمہوریت کی بحالی کی طرف بڑھیں گے، میڈیا کی آزادی کو بحال کریں گے، عوام کو حقوق دلوائیں گے، مل کر ایسی انتخابی اصلاحات لائیں گے، جس سے صاف و شفاف الیکشن ہوں اور مینڈیٹ رکھنے والے عوامی مسائل کا حل نکالیں۔

SUPREME COURT OF PAKISTAN

PM IMRAN KHAN

PDM

NO CONFIDANCE MOTION

Tabool ads will show in this div