امیدہے عدلیہ نظریہ ضرورت کو زندہ نہیں کرے گی،بلاول بھٹو

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اميد کرتےہيں عدليہ ہميں آئينی بحران سے نکالے گی۔ ہمارا اگلا پارٹی اجلاس عدالتی فيصلے کے بعد ہوگا۔ اگر يہ فيصلہ بيلنس کرنے والا ہوا تو پارٹی سی ای سی اس پر تبصرہ کرے گی۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے سنہ 2018 الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام ادارے متازع ہوئے تھے۔عدالت کے سامنے ایک آئنی سوال ہے کہ کیا عمران خان کی ضد اور آنا یا آئین پاکستان مقدم ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کو غیر آئنی طریقے سے روکا گیا ہم جہموری طریقے سے اس مشن کو آگے لے کر جارہے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سیاسی طور پر عمران خان کو نکال چکے ہیں تاہم آئنی مسائل عدالت میں حل ہونے ہیں، عدالتی کارروائی میں تاخیر پر عوامی شکوک اسلئے ہے کیونکہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ آئین میں کوئی بیلنس نہیں ہے۔ عدلیہ نظریہ ضرورت کو دفن کرچکی ہے امید ہے عدلیہ دوبارہ نظریہ ضرورت کو زندہ نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اعلامیے میں کسی بیرونی سازش کا ذکرنہیں تھا، اگربيرونی سازش تھی توبيرونی سازش کيوں نہيں لکھا گيا۔ خان صاحب کے بیانے کو آگے لانے کیلئے ادارے کو استعمال کیا جارہاہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اجلاس ميں موجود عسکری قيادت بات واضح کرے، ہميں غدارکہاگيا،اس کا جواب سامنے آناضروری ہے، ڈی جی آئی ايس آئی کو بھی عدالت ميں بلاکر سنا جاسکتا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جاتے جاتے ہمارا آئین توڑا ہے، عمران خان اس وقت غیر آئینی وزیراعظم ہیں، خان صاحب نےقومی سلامتی کے فورم کوسياست ميں گھسيٹا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر عمران خان کو پارلیمنٹ میں شکست دے چکے، عمران خان کو غیر جمہوری طریقے سے حکومت ملی، عمران خان کی حکومت ختم ہوچکی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس شخص نے اليکشن اصلاحات کے نام پر دھاندلی کی، پاکستان کو اس بحران سے نکالنا ہمارا مقصد تھا، ايسی اصلاحات چاہتے ہيں کہ کوئی اليکشن پر سوال نہ اٹھاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں بھی غیرآئینی وغیرجمہوری کام ہورہاہے،ہماری بس ایک شرط ہے کہ سلیکشن نہیں الیکشن ہوں ۔

BILAWAL BHUTTO

Tabool ads will show in this div