رمضان المبارک میں کونسی غذائیں صحت بخش رہیں گی؟

غیرصحتمند غذائیں آپ کو موٹاپے میں بھی مبتلا کرسکتی ہیں

رمضان المبارک میں روزے رکھ کر آپ مذہبی فریضہ تو انجام دیتے ہی ہیں لیکن ماہ مقدس کے دوران سحر و افطار میں صحتمند غذا کے ذریعے موٹاپے سے نجات بھی پاسکتے ہیں اور غیر صحتمند غذا کے نتیجے میں اپنی توند بڑھاکر شخصیت کو بھی بگاڑ سکتے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ سحر و افطار میں ایسا کیا کھایا جائے کہ آپ کا وزن بھی نہ بڑھے اور 15، 16 گھنٹے کے روزے میں نقاہت اور کمزوری بھی محسوس نہ ہو۔

پاکستان میں رواں سال بھی روزوں کے دوران شدید گرمی ہوگی اور کھانے میں ذرا سی بے احتیاطی آپ کو ڈائریا میں مبتلا کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں آپ بیمار ہوکر ماہ مقدس کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم رہ سکتے ہیں۔

غذائی ماہرین (نیوٹریشنسٹ) فائزہ خان اور صائمہ رشید نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ رمضان المبارک کے دوران سحر و افطار میں زیادہ تیل والی غذاؤں کا استعمال، سادہ غذا، دہی کے استعمال اور سافٹ ڈرنکس، میٹھے مشروبات کے بجائے دیسی مشروبات کا استعمال کرکے صحت کے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔ 

سحری میں کیا کھایا جائے؟

غذائی ماہرین صائمہ رشید اور فائزہ خان کہتی ہیں سحری میں ہمیں کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین یعنی لحمیات والی چیزیں استعمال کرنی چاہئیں، سحری میں گوشت، انڈے، آلو، دالیں، دودھ اور دہی کا استعمال ہمارے لئے مفید ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام حالات میں پراٹھا منع کیا جاتا ہے لیکن سحری میں پراٹھا کھانا نسبتاً زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ 15، 16 گھنٹے کا روزہ ہوتا ہے، ایسے میں ایسی غذا جو تھوڑا آرام آرام سے ہضم ہو تاکہ آپ کو نقاہت اور کمزوری بھی محسوس نہ ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری میں بھوسی کے آٹے کی روٹی کھائیں، روٹی کی شکل میں جب کاربوہائیڈریٹس کھائیں گے تو وہ ہضم بھی آرام آرام سے ہوگا یا اگر آپ پراٹھا کھانے کے عادی ہیں تو کوشش کریں کہ وہ بھوسی والے آٹے کا پراٹھا ہو جو گھی کے بجائے تیل میں بنا ہو کیونکہ جو لوگ دن بھر کام کرتے ہیں انہیں اپنی توانائی دن بھر برقرار رکھنے کیلئے چکنائی چاہئے ہوتی ہے لیکن ایسی چکنائی جو صحت کیلئے مفید ہو۔

ڈاکٹر کہتے ہیں کہ چکنائی 6 سے 8 گھنٹے میں ہضم ہوتی ہے جبکہ پروٹین 4 سے 6 گھنٹے میں ہضم ہوتا ہے، گرمیوں میں پراٹھے کے ساتھ دہی کا استعمال بہت مفید ہوسکتا ہے، پراٹھا کباب یا پراٹھے کے ساتھ انڈا یا سبزیاں بھی کھاسکتے ہیں، دودھ میں کم مقدار میں سویاں یا کھجلہ، پھینی کھاسکتے ہیں لیکن بہت تھوڑی مقدار میں استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ گرم موسم کے دوران میں سحری میں چائے یا کافی کے استعمال سے گریز کریں، ان کی جگہ آپ دودھ یا لسی پی سکتے ہیں، اگر آپ سادہ سحری کے عادی ہیں تو سحری میں کھجور کھائیں، وہ لوگ جنہیں رمضان میں وزن بڑھنے کا خطرہ محسوس ہوتا ہے وہ اسپغول کی بھوسی، تخم بالنگا، تخم ریحان (چیا سیڈز) استعمال کرستے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سحری کیلئے جب بیدار ہوں تو ان میں سے کسی بھی چیز کو پانی میں ملاکر پی لیں، اس کے نتیجے میں آپ کو بھوک بھی کم محسوس ہوگی اور کھانا بھی آہستہ آہستہ ہضم ہوگا۔

صحتمند افطار 

غذائی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دن بھر روزے کی وجہ سے آپ کا معدہ خالی ہوتا ہے، پورا دن معدے میں کوئی غذا نہیں گئی تو ہائیڈرو کلورک ایسڈ آپ کے معدے میں ہوگا، جب آپ کاربونیٹڈ بیوریجز، سافٹ ڈرنکس، فزی ڈرنکس پیئیں گے تو وہ تیزابیت کو مزید بڑھا دے گا، اسی لئے اسلام نے ہمیں میانہ روی سکھائی ہے، حضور نبی کریم صلی علیہ وسلم سادہ افطار کرتے تھے، کھجور، پانی اور نمک سے روزہ افطار کرنا سنت طریقہ بھی ہے اور صحت کیلئے بھی اچھا ہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ کھجور جسم کو توانائی بھی دیتی ہے اور زود ہضم بھی ہے اور یہ آپ کو زیادہ کھانے سے بھی روکتی ہے، اگر آپ وزن میں کمی چاہتے ہیں تو افطار میں تلی ہوئی چیزیں کھانے سے گریز کریں، دیسی مشروبات، تازہ پھلوں کا جوس، سادہ افطار اس لئے بھی صحت کیلئے اچھی ہوتی ہے کہ دن بھر کے فاقے کے بعد میٹابولزم کی رفتار کم ہوچکی ہوتی ہے اور اس وقت زیادہ کھانے کی صورت میں کیلوریز کو ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

صائمہ رشید اور فائزہ خان کا کہنا تھا کہ افطار میں مرچ مصالحے والی اشیاء سے بھی گریز کرنا چاہئے، فروٹ چاٹ، چینی اور کریم بغیر کھائی جائے، چنا چاٹ، دہی پھلکی اور موسمی پھل صحت کیلئے اچھے ہیں، ہمیں مسائل کا سامنا تب کرنا پڑتا ہے جب ہم بہت زیادہ چکنائی والی چیزیں استعمال کرتے ہیں یا بہت میٹھے مشروبات پیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر آپ کو تلی ہوئی چیزیں کھانے کا بہت شوق ہے تو پھر ایک دن میں ایک ہی آئٹم رکھیں، اگر آپ کو پکوڑے کھانے ہیں تو دو تین پکوڑے لے لیں، سموسوں اور دیگر تلی ہوئی چیزیں ہرگز نہ لیں۔

غذائی ماہرین نے کہا کہ گرمیوں میں مشروبات میں لسی بہت اچھا آپشن ہے، اب تو ریسرچ سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ دہی میں پروبایوٹکس ہیں یعنی جو ہمارے جسم میں اچھے بیکٹریاز ہوتے ہیں یہ اس کیلئے بہت فائدہ مند ہے، ضروری نہیں میٹھی لسی بنائیں نمک زیرے والی لسی بناکر پیئیں، دودھ میں تخم بالنگا اور شہد ملاکر استعمال کرسکتے ہیں، لیموں پانی، فریش فروٹ جوس اور ستو بھی بہت مفید مشروبات ہیں، ہمارے دیسی مشروبات صحت افزاء بھی ہیں اور یہ وزن بھی نہیں بڑھائیں گے۔

ڈاکٹرز نے کہا کہ ہلکی پھلکی افطار کریں اور نماز کے فوراء بعد کھانا کھالیا جائے، کوشش کریں تراویح سے پہلے کھانا کھالیں کیونکہ تراویح کے بعد کھانا کھانا اور پھر سوجانا صحت کیلئے اچھا نہیں ہے، اگر آپ افطار اچھی کررہے ہیں تو ڈنر ہلکا کرلیں یا اگر افطار ہلکی پھلکی کریں تو رات کا کھانا اچھی طرح کھالیں، تراویح آپ کیلئے ایک بہترین ایکسرسائز بھی ہے، اس کے نتیجے میں آپ کا کھانا بھی ہضم ہوجائے گا، رمضان میں ورزش نہ کریں، اس کیلئے تراویح ہے، جو لوگ پوری 20 رکوٰۃ تراویح پڑھتے ہیں ان کیلئے یہ ایک بہترین جسمانی سرگرمی ہے، جو لوگ تراویح پڑھتے ہیں اگر وہ واک، ایکسرسائز نہ بھی کریں تو یہ آپ کی صحت کیلئے بہت اچھی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ آج کل لوگ گڑ کو چینی کا متبادل سمجھ کر مشروبات میں دھڑا دھڑ استعمال کرتے ہیں، یہ قطعاً چینی کا متبادل نہیں، گڑ اور شکر دونوں گنے سے ہی بنتے ہیں، اگر گڑ کا استعمال بھی زیادہ کریں گے تو اس سے بھی آپ کا وزن بڑھے گا، ذیابیطس میں مبتلا افراد، دل یا گردے کے مریض اپنے اپنے معالج سے مشورے سے روزہ رکھیں اور پھر اپنا ڈائٹ پلان تیار کریں۔ 

Tabool ads will show in this div