تحریک انصاف کے منحرف اراکین کیخلاف کارروائی کا آغاز

منحرف ارکان کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری

تحریک انصاف کے منحرف اراکین قومی اسمبلی کو وضاحت کیلئے دیا گیا وقت ختم ہونے کے بعد اراکین کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے منحرف اراکین کے جوابات نامعقول قراردے کر مسترد کردیے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے مذکورہ ارکان کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دیدی۔ منحرف اراکین کیخلاف دستاویزی ثبوت ریفرنسز کیساتھ بھجوائے  جائیں گے۔

اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ ہاوس میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کی ہے۔ مشیرپارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا ہے کہ بے ضمیر اراکین کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایات ہیں، دستور اراکین پارلیمان پر صداقت وامانت کی بنیادی شرط عائد کرتاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منحرف اراکین نے پارلیمانی پارٹی سربراہ کی ہدایات سے انحراف کیا۔

واضح رہے کہ 19 مارچ کو پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے پارٹی کے 14 منجرف اراکین کو نوٹسز جاری کردیئے تھے۔ جن اراکین کو شوکازنوٹس جاری کئے گئے ان میں نور عالم خان، افضل ڈھانڈلہ، نواب شیروسیر اور راجہ ریاض شامل ہیں۔

رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ، رانا قاسم نون، عبدالغفار وٹو، مخدوم باسط سلطان کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ان کےعلاوہ عامرطلال گوپانگ، خواجہ شیراز، سردار ریاض مزاری اور رمیش کمار کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ رکن قومی اسمبلی وجیہہ قمر اور نزہت پٹھان کو بھی پی ٹی آئی نے شوکاز نوٹس جاری کردیے۔

واضح رہے کہ اس سلسلے میں ایک صدارتی ریفرنس بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ریفرنس میں وزیراعظم کے مشورے سے صدرمملکت نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق رائے مانگی ہے۔

منتخب رکن کا اپنی جماعت کو چھوڑ کر دوسری جماعت کے حق میں ووٹ دینا فلور کراسنگ تصور ہوتا ہے۔ آئین کے آرٹیل 63 اے کے تحت  سیاسی جماعت کے رکن کے خلاف پارٹی کے خلاف ووٹ کرنے پر ڈسپلنری ایکشن ہوسکتا ہے۔

 

No Confidence Motion

pti govt

PM IK

Tabool ads will show in this div