ناظم جوکھیو قتل کیس:نامزدپی پی ایم این اےجام عبدالکریم پاکستان پہنچ گئے

پولیس سخت سیکیورٹی میں اپنے ساتھ لے گئی
Mar 31, 2022
?????????????????????????????????????????????????????????
?????????????????????????????????????????????????????????

ناظم جوکھیو قتل کیس میں نامزد پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم جمعرات کی صبح پاکستان پہنچ گئے۔

جام عبدالکریم دبئی سے کراچی پہنچے۔ جہاں ایس ایس پی ملیر انہیں حفاظتی تحویل میں اپنے ساتھ لے گئے، ایس ایس پی ملیر کا کہنا تھا کہ جام کریم کو گرفتار نہیں کیا گیا وہ حفاظتی ضمانت پر ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جام عبدالکریم سندھ ہائی کورٹ سے3 اپریل تک حفاظتی ضمانت پر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جام عبدالکریم غیرملکی پرواز کے ذریعے جمعرات کی صبح کراچی پہنچے، کراچی میں جام عبدالکریم کا استقبال کرنے والوں میں پارٹی وزرا امتیاز شیخ، سہیل سیال اور شبیر بجارانی شامل تھے۔ ایئرپورٹ سے جام عبدالکریم سخت سیکیورٹی میں روانہ ہوئے۔ ذرائع کے مطابق جام عبدالکریم مقتول ناظم جوکھیو کے گھر جاکر اہل خانہ اور ان کی بیوہ سے ملاقات کریں گے۔

عدم اعتماد میں ووٹ

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جام عبدالکریم تحریک عدم اعتماد میں اپنا ووٹ بھی استعمال کریں گے۔

دوسری جانب عدالت نے ناظم جوکھیو قتل کیس میں 3 ملزمان سالار، دودو اور دھنی بخش کی ضمانت میں بھی توسیع کردی ہے، یہ تینوں ملزمان ملیر کورٹ سے ضمانت منسوخی کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ واضح رہے کہ جام کریم کی سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت کے بعد بھی وزیر داخلہ نے گرفتاری کا عندیہ دیا تھا۔

ناظم جوکھیو کا ویڈیو بیان

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اردو اور سندھی زبان میں بدھ 30 مارچ کو ناظم جوکھیو کی بیوہ کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم جوکھیو سمیت تمام ملزمان کو خون معاف کر دیا تھا۔ ناظم جوکھیو کی بیوہ شیریں جوکھیو نے یہ بات اپنے پہلے ویڈیو بیان میں بولی تھی۔ ویڈیو بیان میں ناظم جوکھیو کی بیوہ شیریں جوکھیو نے یہ بھی کہا کہ میں بہت مجبور ہوں، میرے گھر والوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے، اپنے بچوں کی خاطر میں نے سب ملزمان کو چھوڑ دیا۔

شیریں جوکھیو نے کہا ہے کہ میں نے فیصلہ اللّٰہ تعالی پر چھوڑا ہے، جنہوں نے میرا ساتھ دیا میں ان کی شکر گزار ہوں اور اس ویڈیو کے ذریعے سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں مزید نہیں لڑسکتی۔

پس منظر

مقتول 27 سالہ ناظم جوکھیو کراچی کے نواحی ضلع ملیر کے گاؤں آچر سالار جوکھیو کے رہائشی اور ضلع کونسل کراچی کے ملازم تھے۔ ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جن کی عمریں دو سال سے چھ سال تک ہیں۔ سال 2021 نومبر میں ملیر میں ناظم جوکھیو نے چند غیر ملکی شکاریوں کو اپنے علاقے میں تلور کا شکار کرنے سے روکا تھا، بعد میں سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں خدشہ ظاہر کیا تھا انہیں اب مار دیا جائے گا۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ناظم جوکھیو کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔

کیس کا مقدمہ

ناظم جوکھیو کے بھائی افضل جوکھیو کی جانب سے قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے مقدمے میں جام عبدالکریم کا نام مرکزی ملزمان سے ہٹوایا، جس کے بعد میڈیا میں یہ اطلاعات عام ہوئیں کہ انہوں نے ڈیل کی ہے لیکن افضل نے اس کی تردید کی۔ اسی عرصے میں مدعی شیریں جوکھیو نے عدم اعتماد پر مقدمے کے وکلا تبدیل کیے۔

پولیس کے تحقیقاتی افسر بھی تبدیل ہوئے جب کہ کئی ماہ کی تاخیر کے بعد مقدمے کا چالان پیش کیا گیا اور مدعی کی درخواست پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی جائیں، جس کے بعد اس میں یہ دفعات شامل کر کے متعلقہ عدالت کو مقدمہ منتقل کیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ابھی یہ مقدمہ زیر سماعت ہی نہیں آیا۔ مقدمے کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی کارکن شیریں کھوکھر کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل آفس نے یہ مقدمہ ابھی بھیجا ہی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق ورثا قصاص و دیت کے مطابق ملزمان کو معاف نہیں کرسکتے، کراچی میں رینجرز اہلکاروں کی فائرنگ میں سرفراز شاہ اور شاہ رخ جتوئی کے مقدمات بھی اس کی مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ

سندھ ہائی کورٹ سے جام عبدالکریم نے حفاظتی ضمانت حاصل کرا لی ہے، جب کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ جام کریم کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے گا۔ جام کریم عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ ڈالنے کیلئے دبئی سے پاکستان آنا چاہ رہے تھے۔

NAZIM JOKHIO

تحریک عدم اعتماد

JAM ABDUL KAREEM