مسلم ليگ ق کی ن ليگ سے ڈيل کيوں نہ ہوسکی؟

شہبازشريف،نوازشريف کا ويٹوختم نہيں کراسکتے، پرویزالہیٰ
Mar 29, 2022

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ ن ليگ سے ڈيل اسلئے نہ ہوسکی کیونکہ وہ ہميں صرف 3،4 مہينے کے ليے وزارت اعلیٰ دينا چاہ رہی تھی۔

ٹی وی انٹريو میں چوہدری پرویزالہیٰ کا کہنا تھا کہ ہميں اطلاعات مل رہی تھيں کہ ہمارا ٹائم پيريڈ تين سے چار مہينے ہوگا۔ کہا جب تحریک انصاف کا وفد آیا تو ہم نے انہیں جواب دیا کہ ہمیں اعتماد نہیں مگر جواب ملا کہ ہم کل آفر لے کر  آئيں گے۔

چوہدری پرویزالہیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارا فطری اتحاد پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔ ہم نے پارٹی اور حلقوں سے بات کی، طارق بشیر چيمہ بھی پہلے مشورے ميں شامل تھے مگر بعد ميں ان کو يہ چيز پسند نہيں آئی۔ انھوں نے کہا کہ طارق بشیر چیمہ کا موقف تھا کہ ميں نے ساڑھے تين سال گزارا کيا۔ ميں انھيں ووٹ نہيں دوں گا تاہم ان کے ساتھ ہماری کوشش اب بھی جاری ہے۔

چوہدری پرویزالہیٰ کا کہنا تھا کہ ن ليگ کی فيملی کے اہم لوگوں میں ايک گروپ مياں صاحب کی آواز ہے۔ شہباز شرف صدر اور اپوزيشن ليڈر ہيں ليکن وہ اپنے بھائی کے ويٹو کو ختم نہيں کرسکتے اور نوازشريف کی رضامندی کے بعد ہميں یہ بھی اطلاع ملی کہ بات ابھی واضح نہيں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آپ کو پنجاب ميں وزارت اعلیٰ بھی بچانی ہے اور عمران خان کو بھی؟ پرویزالہیٰ کا کہنا تھا کہ یہ دونوں کام ہوجائيں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کا کوئی پیغام نہیں آیا بلکہ خان صاحب نے خود پيغام ديا کہ ميں انتظار کر رہا ہوں۔ پھر ہم بنی گالا گئے تو انھوں نے جب فيصلہ کيا تو فوری ميڈيا ميں چلا گيا۔

پرویزالہیٰ کا کہنا تھا کہ آج خان صاحب سے ملاقات ہوئی ہے، میں نے ان کو کہا کہ ايم کيو ايم کو گورنرشپ ديں، شپنگ کی وزارت ديں، جب پرویز خٹک صاحب سے رابطہ ہوا تو انھوں نے کہا ايم کيو ايم آن بورڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہانگيرترين گروپ سے بھی معاملات طے پاگئے ان کے بيٹے سے بات ہوئی۔ وہ لندن ميں تھراپی کرا رہے ہيں۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ جہانگير ترين گروپ سے آج بھی ملاقات ہوئی تھی کل بھی میرے پاس ملاقات کےلیے آرہے ہیں۔

چوہدری پرویزالہیٰ کا کہنا تھا کہ وزيراعظم عمران خان سے خط کے معاملے پر کوئی بات نہيں ہوئی۔

PMLQ

PERVEZ ELAHI

No Confidence Motion

pti govt

Tabool ads will show in this div