دھمکی آمیز خط، متعلقہ سفیر کو ملک بدر کرنیکا مطالبہ

عمران خان دھمکی آمیزخط پارلیمان میں پیش کریں، شاہدخاقان عباسی
Mar 29, 2022

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء شاہد خاقان عباسی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جس ملک سے دھمکی آمیز خط آیا اس کے سفیر کو ملک بدر کردیا جائے، وزیراعظم جلد سے جلد خط پارلیمان اور نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں لائیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنماء شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اُس وزیراعظم پر الزام لگایا ہے، جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، عمران خان فوری ثبوت پیش کریں، دھمکی آمیز خط کو پارلیمان اور نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں لایا جائے، وزیراعظم اپنی سیاست کیلئے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو داؤ پر نہ لگائیں۔

سابق وزیراعظم نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ جب آپ اپنے وزیر کو خط دکھا سکتے ہیں تو 22 کروڑ لوگوں کے نمائندوں کو کیوں نہیں دکھا سکتے؟، سوال یہ ہے کہ دھمکی آمیز خط تحریک عدم اعتماد کے دوران ہی کیوں آیا؟۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اگر واقعی آپ کو دھمکی آمیز خط لکھا گیا ہے تو اس کو پارلیمان میں لائیں، ورنہ اپنے جھوٹ پر معافی مانگیں، اگر اس ہفتے خط پارلیمان میں نہ لائے تو اگلے ہفتے ہم خود پارلیمان میں لے آئیں گے۔

ن لیگی رہنماء نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں ایسی دھمکی کبھی نہیں ملی، اگر ایسا ہوا ہے تو یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، اس معاملے کو پارلیمان میں لایا جانا چاہئے، یہ خط وزیراعظم کیلئے نہیں پوری قوم کیلئے ہے، آپ نے یہ خط اب تک کیوں چھپائے رکھا؟، کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ لوگ خط لکھ کر دھمکیاں دے رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پارلیمان کو بتائیں کس نے پاکستان کو دھمکی دی، کس نے اتنی جرأت کی کہ پاکستان کے عوام کو دھمکی دی، آپ کے 2 وفاقی وزراء نے بھی پریس کانفرنس میں یہی باتیں دہرائی ہیں، ہمارے ملک کو دھمکی آئی ہے تو ہم سب نے مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان معافی مانگیں یا ثبوت پیش کریں، ہم نے تو کبھی رو رو کر تقریر نہیں کی، اگر آپ جھوٹ بول رہے ہیں تو آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

ن لیگی رہنماء نے مطالبہ کیا کہ دھمکی آمیز خط لکھنے والے ملک سے تعلقات توڑ کر سفیر کو ملک بدر کریں، پارلیمان آپ کے ساتھ ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دو دن سے ملکی سلامتی سے متعلق وزیراعظم اور وزراء نے باتیں کیں، اپوزیشن کو ان کی باتوں پر شدید تشویش ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نواز شریف آج بھی سیاست کا محور ہیں، وہ ملک میں نہیں لیکن آج بھی عمران خان رو رو کر ان کا نام لیتے ہیں، عدم اعتماد کا مرحلہ جاری ہے، ق لیگ کو عدم اعتماد میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی، انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے ان کو مبارک ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کسی کے تابع نہیں وہ اپنا فیصلہ کرلیں گے، ہم نے ایم کیو ایم کو دعوت دی ہے امید ہے وہ بہتر فیصلہ کریں گے۔

PM IMRAN KHAN

LETTER ISSUE

Tabool ads will show in this div