افغانستان: غیرملکی میڈیا کی نشریات پر پابندی عائد

غیرملکی نشریات افغان ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتا،طالبان
Mar 28, 2022

افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک میں بی بی سی، وائس آف امریکا اور ڈی ڈبلیو کی نشریات پر پابندی عائد کردی۔

برطانیہ کے قومی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے بی بی سی کے نیوز بلیٹن کو نشر نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ بی بی سی نے 27 مارچ  کو یہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہنگامہ خیز حالات کے دوران یہ افغانستان کے لوگوں کے لیے ایک تشویشناک پیش رفت ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کا موقف ہے کہ 60 لاکھ سے زیادہ افغان بی بی سی کی آزاد اور غیر جانبدارانہ صحافت کا استعمال کرتے ہیں، انہیں اس رسائی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب جرمن خبر رساں ادارے نے مقامی میڈیا کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے وائس آف امریکہ کی نشریات کو بھی فی الوقت بند کرنے کا کہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کی اطلاعات و نشریات اور ثقافتی امور کی وزارت کے ایک ترجمان عبد الحق حماد نے بھی اس اطلاع کی تصدیق کی ہے۔

بی بی سی اور وائس آف امریکا کے علاوہ طالبان نے جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے نشریات پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ کی جانب سے پیر 28 مارچ کر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں آزادی صحافت اور اظہار رائے پر بڑھتی ہوئی پابندیاں بہت پریشان کن ہیں۔

طالبان حکومت کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے  ٹی وی پر نشر کردہ مواد پر طالبان کا کوئی کنٹرول نہیں کہ کس رپورٹر نے کیسا لباس پہن رکھا ہے۔

انعام اللہ سمنگانی کا مزید کہنا تھا کہ بعض اوقات غیر ملکی میڈیا کی جانب سے ایسا مواد نشر کیا جاتا ہے جو افغانستان کے مذہبی اور ثقافتی عقائد اور قومی مفادات کے خلاف ہوتا ہے لہٰذا ٹی وی چینلز پر غیر ملکی میڈیا کے پروگراموں کے نشر کیے جانے کو بند کر دیا گیا ہے۔

AFGHAN TALIBAN

Tabool ads will show in this div