ناظم جوکھیوکیس:نامزدپی پی ایم این اے کا نام ای سی ایل میں شامل

ملزمان گرفتاری سے بچنے کیلئے بیرون ملک فرار ہوگئے تھے

[video width="800" height="450" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/2022/03/Nazim-jokhio-ECL-for-web.mp4"][/video]

وزارت داخلہ نے قتل کیے گئے ناظم جوکھیو کے کیس میں نامزد ملزم پاکستان پیپلزپارٹی کے ممبر قومی اسمبلی جام عبدالکریم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل ) میں شامل کردیا ہے۔

ناظم جوکھیو قتل کیس کی ایف آئی آر میں نامز د دیگر 9 ملزمان کے نام بھی ای سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں۔ ملزمان کے نام وزارت داخلہ کی سفارش پر ای سی ایل میں شامل کیے گئے، جب کہ وزیر داخلہ نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ایف آئی اے کو انٹرپول سے رابطہ کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔

شیخ رشید احمد

واضح رہے کہ گزشتہ روز 26 مارچ بروز ہفتہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی تحریک عدم اعتماد میں نمبر پورے کرنے کیلئے بیرون ملک فرار مفررو ملزمان کو بھی واپس بلا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ناظم جوکھیو قتل کیس میں نامزد پاکستان پیپلزپارٹی کا رکن قومی اسمبلی جام عبداللکریم بھی دبئی سے واپس پاکستان آرہا ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ جام عبدالکریم کو وطن واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی گرفتار کرکے سندھ پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔

گورنر سندھ

دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو جام عبدالکریم کو گرفتار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ جام عبدالکریم ناظم جوکھیو کے قتل میں مطلوب ہیں، ملزم عدالت سے مفرور اور دبئی میں مقیم ہے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ اطلاعات ہیں جام عبدالکریم اجلاس میں شرکت کیلئے اسلام آباد آرہے ہیں، ڈی جی ایف آئی اے کو جام عبدالکریم کو گرفتار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جام عبدالکریم گھناونے قتل میں مطلوب ہے، ہم کسی مجرم کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتے۔ ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھا ہے کہ وہ فوری طور پر کارروائی کریں اور جام عبدالکریم کا نام پی این آئی ایل میں شامل کیا جائے۔

پس منظر

گزشتہ سال نومبر میں سندھ کے رہائشی ناظم جوکھیو نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں وہ ملیر میمن گوٹھ میں کچھ غیر ملکیوں کو شکار سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ناظم جوکھیو کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔

ناظم جوکھیو کے لواحقین نے اس مبینہ قتل کے الزام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جام اویس گہرام، رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم سمیت 22 ملزمان کو نامزد کیا تھا، جن میں سے بیشتر افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ چند ملزمان ضمانت پر ہیں۔ متوفی کے رشتہ داروں نے احتجاجاً نیشنل ہائی وے بلاک بھی کی تھی اور بعد ازاں مقدمہ درج کروایا۔

وفاقی حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں ناظم جوکھیو قتل کیس میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پولیس

پولیس چالان کے مطابق متوفی ناظم الدین جوکھیو کو عربی شیخ کے ساتھ تلخ کلامی کرنے اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی وجہ سے قتل کیا گیا جس میں ملزمان جام عبدالکریم، جام اویس عرف گہرام، میر علی جوکھیو، حیدر علی خاصخیلی اور نیاز سالار ملوث پائے گئے ہیں۔

PTI

IMRAN KHAN

NAZIM JOKHIO

Tabool ads will show in this div