لمپی اسکن بیماری سندھ کی بھینسوں میں بھی پھیل گئی

لائیواسٹاک کےاشتہارمیں بھی بیماری بھینسوں میں پھیلنےکاذکرموجود

لمپی اسکن  بیماری سندھ کی گائےاور بیلوں کے بعد بھینسوں میں بھی پھیل گئی ہے۔

محکمہ لائیو اسٹاک نے بیماری بھینسوں میں بھی پھیلنے کی تصدیق کردی ہے۔کراچی سمیت سندھ بھرمیں بھینسوں کے لمپی اسکن کیسز سامنے آگئے ہیں۔ لائیواسٹاک کےاشتہارمیں بھی بیماری بھینسوں میں پھیلنےکاذکرموجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے مختلف ویرینٹس موجود ہے اور ان پر تحقیق جاری ہے۔ اس وقت جو ویکسین منگوائی جارہی ہے اس پر ڈیری فارمز کو تحفظات ہیں۔

واضح رہے کہ ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک سندھ ڈاکٹر نذیر حسین کلہوڑو نے بتایا تھا کہ صوبہ سندھ کے 5 اضلاع اس بیماری سے محفوظ ہیں، باقی پورے صوبے میں یہ بیماری پھیل چکی ہے، 23 مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بھر میں 27 ہزار 857 گائے اس بیماری سے متاثر ہیں جبکہ 250 کے لگ بھگ مویشی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں سوشل میڈیا پر لمپی اسکن ڈیزیز کو چھوت کی بیماری یا انسانوں کیلئے موذی یا مہلک بیماری بتایا جارہا ہے، یہ غلط تصویر ذہنوں سے کھرچنے کی ضرورت ہے کہ لمپی اسکن ڈیزیز انسانوں میں منتقل نہیں ہوتی بلکہ یہ جانوروں میں بھینس، بکری یا بھیڑ میں نہیں ہوتی بلکہ صرف اور صرف گائے میں یہ بیماری پائی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نومبر میں صوبہ سندھ کے منظورآباد ضلع جامشورو میں اس بیماری کے شواہد ملے، اس سے پہلے پنجاب میں یہ بیماری آچکی تھی، جس کے بعد لسبیلہ بلوچستان میں بھی جانوروں میں اس بیماری کے پھیلنے کی اطلاعات ملیں، وفاقی حکومت اور صوبوں کا اس بیماری کے معاملے پر باہم گہرا رابطہ رہا، صوبے میں ویکسین کی 30 ہزار خوراکیں موجود ہیں جنہیں متاثرہ علاقوں کے اطراف میں جانوروں کو لگایا جارہا ہے، ویکسین کی 40 لاکھ خوراکیں ہنگامی طور پر ترکی سے منگوائی جارہی ہیں، اپنی ویکسین 8 سے 9 ماہ میں تیار کرلیں گے۔

ڈی جی لائیو اسٹاک کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے تک ویکسین کی 20 لاکھ خوراکیں پہنچ جائیں گی جبکہ 20 لاکھ دوسری کھیپ بعد میں آئیں گی۔

LUMPY SKIN

Tabool ads will show in this div