لڑکالڑکی ویڈیوکیس،عثمان مرزا سمیت5ملزمان کوعمر قیدکی سزا

عدالت نے عمر بلال اور ریحان حسین کو بری کردیا
Mar 26, 2022
عدالت نے عمر بلال اور ریحان حسین کو بری کردیا
عدالت نے عمر بلال اور ریحان حسین کو بری کردیا
عدالت نے عمر بلال اور ریحان حسین کو بری کردیا
عدالت نے عمر بلال اور ریحان حسین کو بری کردیا

اسلام آباد کے سیکٹرای الیون میں لڑکا لڑکی ویڈیو کیس میں عدالت نے عثمان مرزا سمیت 5 ملزمان کوعمر قید کی سزا کا حکم دے دیا۔

سیشن عدالت میں ای الیون لڑکا لڑکی ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی۔ایڈیشنل سیشن جج عطاربانی نے فیصلہ سنایا جس میں عثمان مرزا سمیت 5 ملزمان کوعمر قید کی سزا کا حکم دیا گیا جب کہ عدالت نے عمر بلال اور ریحان حسین کو بری کردیا۔عطا الرحمن،ادارس قیوم بٹ،محب بنگش، فرحان شاہین کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

 ستمبر 2021 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس میں شریک 3ملزمان ادارس قیوم بٹ، حافظ عطاالرحمان اور فرحان شاہین کی ضمانتیں خارج کردی تھیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست ضمانت پر دلائل کے بعد فیصلہ سنایا تھا۔

اس سے قبل پولیس چلان میں عثمان مرزا اور ابرار کو مرکزی قرار دیا گیا تھا جنہوں نے ساتھیوں کے ساتھ نازیبا ویڈیو بنائی اور بلیک میل کر کے بھتہ وصول کیا تھا۔

پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر ویڈیو والاموبائل فون اور پستول برآمد کیا تھا اور دوران تفتیش ملزم عمر بلال نے انکشاف کیا تھا کہ عثمان مرزا کے کہنے پر متاثرہ لڑکا اور لڑکی سے سوا 11لاکھ روپے لیے جس میں سے 6 لاکھ روپے عثمان کو دیے اور باقی رقم دیگر ساتھیوں میں تقسیم کی۔

متاثرین کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ بیان بھی چالان کا حصہ بنایا گیا تھا۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق عثمان اور اس کے دوست ہمارا مذاق اڑاتے اور ویڈیو بناتے رہے۔

 پولیس نے جوڑے کو ہراساں اور ان پر تشدد کرنے والے ملزمان کے موبائل سے ویڈیوز برآمد کرکے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کردی تھی۔

ايف آئی اے کی خاتون ايکسپرٹ عاصمہ مجيد، محرر تھانہ گولڑہ کاشف حيات، کمپيوٹر آپريٹر سجاد افضل نے بطور گواہ اپنے بيانات ريکارڈ کروائے تھے۔ ايف آئی اے کی ماہر خاتون نے بتايا تھا کہ پولیس کی جانب سے جو ڈیوائس ملی اس کی فرانزک رپورٹ میں آڈیو ملزم سے ملتی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشن افضال کوثرنے بتایا تھا کہ ملزمان نے لڑکی کے ساتھ ریپ بھی کیا تھی اور متاثرہ لڑکی کے بیان کے بعد ایف آئی آر میں مزید دفعات کا اضافہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ 18 نومبر 2020ء کو سیکٹر ای الیون میں پیش آیا تھا جس کی ایف آئی آر 8 ماہ تاخیر سے درج ہوئی، مقدمہ متاثرین نہیں بلکہ ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کی شکایت پر 6 جولائی 2021ء کو درج ہوا تھا۔

Video Scandal

Usman Mirza

Tabool ads will show in this div