ڈاؤ یونیورسٹی کا لمپی اسکن ڈیزیز کی ویکسین بنانے کااعلان

سندھ میں سیکڑوں گائیں ہلاک اور ہزاروں متاثر ہوچکیں
Mar 24, 2022

ڈاؤ یونیورسٹی نے محکمہ لائیو اسٹاک سندھ کے اشتراک سے بووائن لمپی (لمپی اسکن) ڈیزیز کی ویکسین جلد بنانے کا اعلان کردیا۔ گائے میں پھیلنے والی اس بیماری سے اب تک 200 سے زائد جانور ہلاک اور ہزاروں متاثر ہوچکے ہیں۔

اس بات کا اعلان ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی پرو وائس چانسلر پروفیسر نصرت شاہ نے  اوجھا کیمپس کے عبدالقدیر خان آڈیٹوریم میں ایسوسی ایشن آف مالیکیولر اینڈ مائیکرو بیال سائنسز کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار بعنوان ’’کرنٹ اسٹیٹس اینڈ وے فارورڈ ٹو تھراپی اینڈ پری وینشن‘‘ سے خطاب  ہوئے کیا۔

سیمینار سے ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک سندھ ڈاکٹر نذیر حسین کلہوڑو اور پرنسپل ڈاؤ کالج آف بایوٹیکنالوجی  پروفیسر مشتاق حسین نے بھی خطاب کیا۔

پروفیسر نصرت شاہ کا کہنا تھا کہ اب تک کی تحقیق کے مطابق لمپی اسکن ڈیزیز کے انسانوں میں منتقلی کے کوئی شواہد نہیں ملے، نہ ہی دودھ یا گوشت میں اس کے اثرات ہوتے ہیں، ملک میں لوگوں کے پروٹین کے استعمال میں کمی دیکھی گئی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ گوشت کا استعمال ترک نہ کیا جائے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ویٹرنری کی جانب آئیں کیونکہ ہمارے یہاں ویٹرنری ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک سندھ ڈاکٹر نذیر حسین کلہوڑو نے بتایا کہ صوبہ سندھ کے 5 اضلاع اس بیماری سے محفوظ ہیں، باقی پورے صوبے میں یہ بیماری پھیل چکی ہے، 23 مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بھر میں 27 ہزار 857 گائے اس بیماری سے متاثر ہیں جبکہ 250 کے لگ بھگ مویشی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں سوشل میڈیا پر لمپی اسکن ڈیزیز کو چھوت کی بیماری یا انسانوں کیلئے موذی یا مہلک بیماری بتایا جارہا ہے، یہ غلط تصویر ذہنوں سے کھرچنے کی ضرورت ہے کہ لمپی اسکن ڈیزیز انسانوں میں منتقل نہیں ہوتی بلکہ یہ جانوروں میں بھینس، بکری یا بھیڑ میں نہیں ہوتی بلکہ صرف اور صرف گائے میں یہ بیماری پائی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نومبر میں صوبہ سندھ کے منظور آباد ضلع جامشورو میں اس بیماری کے شواہد ملے، اس سے پہلے پنجاب میں یہ بیماری آچکی تھی، جس کے بعد لسبیلہ بلوچستان میں بھی جانوروں میں اس بیماری کے پھیلنے کی اطلاعات ملیں، وفاقی حکومت اور صوبوں کا اس بیماری کے معاملے پر باہم گہرا رابطہ رہا، صوبے میں ویکسین کی 30 ہزار خوراکیں موجود ہیں جنہیں متاثرہ علاقوں کے اطراف میں جانوروں کو لگایا جارہا ہے، ویکسین کی 40 لاکھ خوراکیں ہنگامی طور پر ترکی سے منگوائی جارہی ہیں، اپنی ویکسین 8 سے 9 ماہ میں تیار کرلیں گے۔

ڈی جی لائیو اسٹاک کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے تک ویکسین کی 20 لاکھ خوراکیں پہنچ جائیں گی جبکہ 20 لاکھ دوسری کھیپ میں آئیں گی، حکومت سندھ کی جانب سے ویکسین جانوروں کو مفت لگائی جائے گی، جو گائے بھی اس بیماری سے متاثر ہوتی ہے وہ دودھ دینا بند کردیتی ہے، متاثرہ گائے کے ذبیحے پر پابندی لگا دی ہے۔

HEALTH

DOW university

LUMPY SKIN DISEASE

Tabool ads will show in this div