اطہرمتین قتل کیس،ملزم اشرف بنگلزئی جوڈیشل ریمانڈ پرجیل منتقل

تفتیشی افسرکو 14 روز میں چالان پیش کرنے کا حکم دیا
تفتیشی افسرکو 14 روز میں چالان پیش کرنے کا حکم دیا
تفتیشی افسرکو 14 روز میں چالان پیش کرنے کا حکم دیا

انسداد دہشت گردی عدالت نے سینئرصحافی اطہرمتین قتل کیس کے ملزم اشرف بنگلزئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں  کراچی کی سماء کی سینئرپروڈیوسراطہر متین قتل کیس کی سماعت ہوئی۔

ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پرملزم اشرف بنگلزئی کو پیش کیا گیا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے تفتیش مکمل ہوگئی ہے اور اب مزید ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے تفتیش میں اہم انکشافات کیے ہیں۔عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم اورتفتیشی افسرکو 14 روز میں چالان پیش کرنے کا حکم دیا۔

اس سے قبل گذشتہ سماعت میں تفتیشی افسر نے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ چشم دید گواہوں کا بیان ریکارڈ کرالیا گیا ہے۔انھوں نے رپورٹ میں بتایا کہ تفتیش درست سمت میں جاری ہے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ اس قتل کیس میں3گواہوں کےبیانات ریکارڈ کرلئے گئے ہیں۔ گواہوں کےبيانات دفعہ164کے تحت قلمبند کئےگئے، گواہان نے بتایا کہ ملزم اپنے ساتھی کے ہمراہ لوٹ مار کررہا تھا،ایک ملزم کو مقتول پرگولی چلاتے ہوئےدیکھا۔

ملزم اشرف بنگلزئی کو گواہان عدالت میں پہلے ہی شناخت کرچکے ہیں۔

غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں بھی ملزم کے ریمانڈ میں توسیع کی جاچکی ہے۔

بارہ مارچ کو عدالت میں جمع کروائی گئی پیشرفت رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار ملزم اشرف کی نشاندہی پرپولیس نے آلہ قتل برآمد کرلیا ہے۔پولیس نےغیرقانونی اسلحہ رکھنے پرملزم کے خلاف اور ایک مقدمہ بھی درج کرلیا۔

گرفتار ملزم اشرف کی شناخت پریڈ

چار مارچ کو کراچی سٹی کورٹ میں سینئرصحافی اطہر متین قتل کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں گرفتار ملزم اشرف کی شناخت پریڈ ہوئی جس میں کیس کے 3 عینی شاہدین نےملزم کو شناخت کرلیا۔ گواہوں نے 10 ڈمی ملزمان کے درمیان ملزم اشرف کوشناخت کیا۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ شناخت پریڈ کے بعد 164 کے بیانات کی درخواست غیرموثر ہوگئی،ملزم اشرف سینیئر صحافی اطہر متین کے قتل میں ملوث ہے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا ساتھی انور قمبر شہدادکوٹ میں پولیس مقابلے میں مارا جاچکا ہے، ملزم نےدوران تفتیش سینکڑوں وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔

اطہرمتین کے ساتھ کیا ہوا تھا

واضح رہے کہ 18 فروری بروز جمعہ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کےڈی اے چورنگی کے قریب گاڑی پر فائرنگ سے سماء ٹی وی کے سینیر صحافی اطہر متین جاں بحق ہوگئے تھے۔

ایس پی گلبرگ طاہر نورانی کا کہنا تھا کہ اطہر متین شہری کو لوٹنے سے بچا رہے تھے اور اسی دوران انہوں نے اپنی گاڑی ملزمان کی بائیک سے ٹکرائی۔ اطہر متین کی گاڑی سے ٹکرانے کے بعد بائیک سوار گرگئے، جس کے بعد بائیک سوار نے اٹھ کر پستول سے فائر کیا جو مقتول کے سینے میں لگا۔ واقعے کے بعد بائیک سوار اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر دوسرے شہری سے بائیک چھین کر فرار ہوگئے۔

اشرف بنگلزئی کی گرفتاری

ہفتہ 26 فروری کو جاری بیان میں وزیراطلاعات سندھ سعید غنی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ شہید اطہر متین کے قتل میں ملوث ملزم اشرف بنگلزئی کو سندھ پولیس نے گرفتار کرلیا۔

پولیس چیف غلام نبی نے بھی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کا تعلق بلوچستان کے علاقے خضدار سے ہے۔ قاتل کو حب بارڈر کے قريب سے گرفتار کيا گيا۔ گرفتار ملزم سی سی ٹی وی فوٹيج ميں آگے دکھائی ديا جانے والا ہے، گرفتار ملزم نے اطہر متین پر گولی چلائی تھی۔

اپنے بیان میں پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کا تعلق موٹرسائیکل چھیننے والے گینگ سے ہے، جو 10 سے 12 افراد پر مشتمل ہے۔ یہ گینگ نئی موٹر سائیکلوں کو لوگوں سے چھین کربیچتا تھا۔

مرکزی ملزم کی پولیس مقابلےمیں موت

ایس ایس پی بشیر احمد بروہی کے مطابق ملزم انور حسنی بروہی قمبر کی موجودگی کی اطلاع پر شہداد کوٹ کے علاقے میں چھاپا مارا گیا تھا، جہاں پولیس کی جوابی فائرنگ میں ملزم ہلاک ہوا۔

ایس ایس پی قمبر شہداد کوٹ کے مطابق ملزم قمبر شہداد کوٹ اور کراچی پولیس کی مشترکا کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان قتل کے بعد بلوچستان کے علاقے خضدار فرار ہو گئے تھے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ملزم انور حسنی بروہی ضلع قمبر شہداد کوٹ سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسی دوران پولیس نے مشکوک نقل و حرکت بھانپتے ہوئے اس رکنے کا اشارہ کیا جس پر اس نے پولیس پر فائرنگ کی اور ملزم مقابلے کے دوران ہلاک ہوگیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم انور کی گرفتاری کے لئے 20 لاکھ روپے انعام مقرر تھا، ہلاک کئے گئے ملزم کے دوسرے ساتھی اشرف کو منگھوپیر سندھ بلوچستان بارڈر سے 26 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ملزم کا کرمنل ریکارڈ

پولیس ریکارڈ کے مطابق ہلاک ملزم کے خلاف 13 مقدمات درج تھے۔ ہلاک ہونے والا ملزم 2014ء سے وارداتوں میں ملوث اور 3 مرتبہ گرفتار ہوچکا تھا، ملزم ہر بار ضمانت پر رہا ہوکر وارداتیں کرتا رہا۔

فرانزک رپورٹ

دوسری جانب صحافی اطہر متین کے قتل کی تحقیقات بھی جاری ہیں، جائے وقوعہ سے ملنے والے خول کی فرانزک رپورٹ بھی آگئی ہے، جس میں قتل میں استعمال اسلحہ پہلے بھی واردات میں استعمال ہونے کا انکشاف ہوا۔

فرانزک رپورٹ کے مطابق چند روز قبل گلبرگ میں بھی اسی اسلحے سے شہری پر فائرنگ کی گئی تھی، ملزم انور اور اشرف نے موٹرسائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت پر گولی چلائی تھی۔

ATHAR MATEEN

Tabool ads will show in this div