وکی لیکس کےبانی جولین اسانج جیل میں دُلہا بن گئے

جولین 2019 سے لندن کی جیل میں ہیں
جولین 2019 سے لندن کی جیل میں ہیں
جولین 2019 سے لندن کی جیل میں ہیں

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے لندن کی جیل میں منگیترسٹیلا مورس سے شادی کرلی، جولین سال 2019 سے جیل میں ہیں۔

جولین اسانج کی اہلیہ کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے اور وہ شعبہ وکالت سے وابستہ ہیں،سٹیلا مورس نے ایک انٹرویومیں انکشاف کیا تھا کہ وہ اور جولین 2015 تعلق میں ہیں، ان کے 2 بچے بھی ہیں۔

نومبرمیں منگنی کا اعلان کرنے والے جولین اسانج اورسٹیلا کو جیل میں شادی کرنے کی اجازت دی گئی تھی، ڈونٹ ایکسٹراڈائٹ اسانج (ڈی ای اے) گروپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ شادی بذریعہ رجسٹرارہوگی جس میں صرف 4 مہمان شریک ہوں گے اوررسم پوری ہوتے ہی انہیں فوری طور پروہاں سے جانا ہو گا۔

ویب سائٹ وکی لیکس نے ٹوئٹر پرسٹیلا مورس کی جیل کے باہر جمع صحافیوں اوراپنے حامیوں سے مختصرخطاب کی ویڈیو شیئرکی۔ سٹیلا کا کہنا تھا کہ وہ خوشی ودُکھ کے ملے جُلے جذبات سے سرشار اور جولین کو دل وجان سے چاہتی ہیں، کاش وہ یہاں ہوتے۔

شادی کا کیک کاٹنے والی سٹیلا نے روایتی سفید لباس زیب تن کیا جس پربہادر، آزاد، پائیدارمحبت جیسے الفاظ شامل تھے۔

جیل روانگی سے قبل سٹیلا کی گلدستہ تھامے تصویربھی شیئرکی گئی جس میں اُن کے دونوں بچے بھی موجود ہیں۔

جولین اسانج کی کوئی تصویرسوشل میڈیا پرشیئرنہیں کی گئی کیونکہ جیل قواعد کے مطابق ایسا کرنا سیکیورٹی رسک میں شمارکیا جاتا ہے۔

جولین اسانج کون ہیں؟

آسٹریلین جولین اسانج نے سال 2006 سے وکی لیکس نامی ویب سائٹ سے ہزاروں خفیہ دستاویزات افشاں کرکے شہرت حاصل کی تھی۔ 50 سالہ جولین جاسوسی کے الزامات میں امریکا ایکسٹراڈیشن کے خلاف قانونی جنگ لڑرہے ہیں جنہیں 2019 میں ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے حراست میں لیکربلمورش جیل میں رکھاگیا ہے۔

اسانج سویڈن حوالگی سے بچنے کے لیے 2012 سے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں مقیم تھے کیوںکہ سویڈن میں انہیں جنسی ہراسانی جیسے الزامات کا سامنا تھا جن کی جولین نے ہمیشہ تردید کی اوربعد ازاں سویڈن کے عوامی استغاثہ نے ان کے خلاف ریپ کے الزام کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اے ایف پی کے مطابق اسانج ایسے اقدامات سے بچنے کی کوششوں میں ہیں جو انہیں برطانیہ سے نکال کرعراق اور افغانستان کی جنگوں سے متعلق خفیہ فائلوں کی اشاعت پر امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنے سے متعلق ہیں۔ انہوں نے امریکا حوالگی کے خلاف برطانوی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس نے رواں ماہ انہیں عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت دینے سے انکارکردیا۔

وکی لیکس کے نام سے افشاں کی جانے والی یہ خفیہ دستاویزات فلم انڈسٹری سے لے کر قومی سلامتی اورجنگوں سے متعلق رازوں پرمشتمل ہیں جن میں 2010 میں امریکی جنگی ہیلی کاپٹر سے بنائی گئی ویڈیو بھی شامل ہے جس نشر کی جس میں بغداد میں شہریوں کو ہلاک کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

امکان ہے کہ اگرجولین اسانج کو امریکا کے حوالےکیا گیا تو انہیں 175 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

Tabool ads will show in this div