حکومتی وفد ایک بارپھر ایم کیو ایم کو منانےکيليے کوشاں

حکومت کی کراچی کےجائزمسائل حل کرنےکی یقین دہانی
Mar 23, 2022

حکومتی وفد ایک بار پھر اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو منانے کےلیے کوشاں ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر اور پرویز خٹک نے ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد ميں ساتھ نہ دینے کی درخواست کی۔ وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ یہ وقت ضمیر فروشوں کے ساتھ چلنے کا نہیں ہے۔

ملاقات میں سندھ خصوصاً کراچی کے جائز مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ ایم کیو ایم رہنماوں کا کہنا تھا کہ پارٹی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

قومی اسمبلی میں حکمران  جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن  شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

MQM Pakistan

pti govt

Tabool ads will show in this div