بلاول اورشہباز کی یک زبان ہوکرحکومت پرتنقید، اسپیکر کوآڑےہاتھوں لیا

کیس کو اٹھانے پر سپریم کورٹ بار کے شکر گزار ہیں

پاکستان پیپلزپارٹی کےچئیرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت الیکشن سے بھاگنے کے لیےآئین توڑنےپراترآئی ہے جب کہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا کہنا ہے کہ اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے اسلامی ممالک کے وزرا خارجہ کی کانفرنس کی آڑ میں قانون کو توڑا ہے۔

سپریم کورٹ میں بار کونسل کی درخواست پر سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتےہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بتایا کہ اپوزیشن حکومت کی سوچ کو بالکل جانتی ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں بات کی اوراس کیس کو اٹھانے پر سپریم کورٹ بار کے شکر گزار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہماری استدعا تھی کہ اسپیکرقومی اسمبلی نے آئین سے انحراف کیا اور25مارچ کو اجلاس بلایا جوتحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے 14 روز بعد کا دن ہے۔ اسپیکر نے جان بوجھ کر اجلاس نہیں بلایا اور اسپیکر نے اپوزیشن کو جال میں پھنسانے کی کوشش کی تاہم یہ معاملہ عدالت کے پاس ہے اس لئےاس پر بات نہیں کریں گے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کے وزرا خارجہ ہمارے بھائی ہیں اور اپوزیشن نے 23 مارچ کا لانگ مارچ او آئی سی اجلاس کی وجہ سے ہی موخر کیا۔

اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کےچئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد سے متعلق نہ پی پی پی اور کسی اور جماعت نے سپریم کورٹ میں درخواست کی بلکہ سپریم کورٹ بار کونسل نے یہ درخواست دائر کی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب سندھ ہاؤس پرحملہ ہوا تو ویک اینڈ ہونے کے باوجود اس معاملے کا نوٹس لیا گیا اورتمام ترچیزوں کواس کا حصہ بنایا گیا۔

چئیرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ ہمارے آئینی حقوق کے تحفظ کا ادارہ ہے لیکن حکومت اس حد تک الیکشن اورعدم اعتماد سے بھاگ رہی ہے کہ آئین توڑنا چاہ رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب حکومت نے لاجز پر حملہ کیا اور دہشت پھیلانے کی کوشش کی تو رہنماؤں نے سندھ ہاؤس میں پناہ لی تو سندھ ہاؤس پر بھی حملہ کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اسپیکرقومی اسمبلی اپنا کام وکلاء سے مشورہ کرکے کریں،اراکین پارلیمنٹ کا حق ہے کہ وہ ووٹ ڈالیں،اعلیٰ عدلیہ سے امید ہے کہ وہ سیاسی جماعت کی طرف داری نہیں کرے گی۔

BILAWAL BHUTTO

Tabool ads will show in this div