متحدہ اپوزیشن بلاول کے دھمکی آمیزبیان سے پیچھے ہٹ گئی

بلاول نے اوآئی سی اجلاس روکنے کی دھمکی دی تھی
Mar 20, 2022

متحدہ اپوزیشن او آئی سی اجلاس سے متعلق بلاول بھٹو زرداری کی دھمکی کے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی، مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ مہمانوں کی پاکستان آمد کا خیر مقدم کرتے ہیں، او آئی سی اجلاس کی وجہ سے ہی لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کی تھی، پاکستان کی داخلی سیاست کو او آئی سی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائیگا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہونیوالی اپوزیشن کی میٹنگ کے بعد پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کے صدر سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کو دھمکی دی تھی کہ اگر پیر تک تحریک عدم اعتماد پیش نہ کی گئی تو ایوان سے نہیں اٹھیں گے اور پھر دیکھتے ہیں کہ او آئی سی کا اجلاس کیسے ہوتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی دھمکی کے کئی گھنٹے بعد متحدہ اپوزیشن نے ایک وضاحتی اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں پی پی چیئرمین کے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا گیا ہے کہ او آئی سی اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ، مندوبين کی پاکستان آمد کا پُرتپاک خيرمقدم کرتے ہيں، متحدہ اپوزيشن يقين دلاتی ہے معزز مہمانوں کی آمد کے موقع پر پاکستان انہيں خوش آمديد کہتا ہے۔

مزید جانیے: بلاول نے اوآئی سی کانفرنس روکنے کی دھمکی دیدی

مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہمانوں کی موجودگی کے دوران ان کا احترام، خوشگوار ماحول استوار کرنے ميں اپنا کردار يقينی بنائيں گے، او آئی سی کے مہمانوں کے خيرمقدم کيلئے ہی متحدہ اپوزيشن نے لانگ مارچ کی تاريخوں ميں تبدیلی کی۔

متحدہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے داخلی سیاسی حالات اور سیاسی کشمکش کو کسی طور پر او آئی سی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا، اُمید ہے معزز مہمانوں کا قیام خوشگوار رہے گا، وہ اچھی یادیں لے کر اپنے اپنے وطن واپس جائيں گے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا قومی اسمبلی اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا فیصلہ

اپوزیشن کی دھمکی پر وفاقی وزراء کا ردعمل

اپوزیشن کی جانب سے او آئی سی کانفرنس روکنے کی دھمکی پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے انتہائی ناسمجھی والی بات کی، پریشان ہمیں ہونا چاہئے، پریشان یہ ہیں، تحریک عدم اعتماد کا آئینی اور قانونی انداز میں مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی رکن اسمبلی کو ووٹ دینے سے نہیں روکیں گے، زبردستی نہیں کریں گے البتہ اراکین کو اپنا مینڈیٹ یاد کرائیں گے، تحریک عدم اعتماد تو ابھی جمع کروائی گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ او آئی سی کیلئے مہمان آنا شروع ہوگئے، بطور وزیر خارجہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں بھارت یہ کانفرنس سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، مجھے امید ہے بلاول بھارت کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے، او آئی سی اجلاس حکومت کا نہیں ریاست پاکستان کا ایونٹ ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اپوزیشن کا مثبت نہیں منفی اتحاد ہے، یہ بنانے نہیں گرانے کیلئے جمع ہوئے، آپ کے پاس نمبرز پورے ہیں تو پھر گھبراہٹ کا شکار کیوں ہیں، نون لیگ کے اندر دو سوچیں ہیں، ایک عدم اعتماد کی حامی دوسری مخالف۔

اسد عمر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں چیئرمین پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلاول ہمیں پتہ تھا آپ مسلمانوں کے دفاع میں بات کرنے سے ڈرتے ہو، اتنی کھلی دشمنی کہ اسلامی کانفرنس روکنے کی دھمکی دیدی؟، کانفرنس تو ہوگی، روک سکو تو روک لو۔

OIC Meeting

PM IMRAN KHAN

PDM

BILAWAL BHUTTO ZARDAI

Tabool ads will show in this div