آرٹیکل 63اے کا اطلاق ووٹنگ کے بعد ہوسکتا ہے،شہبازشریف

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو

اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں اپنے پارٹی کی مخالفت کرنے والے اراکین اسمبلی کیخلاف آرٹیکل 63 اے کا اطلاق ووٹنگ کے بعد ہوسکتا ہے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے پُرامید ہوں،تحریک انصاف کے ارکان وزیراعظم عمران خان کیخلاف ضمیر کے مظابق ووٹ دیں گے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کئی ارکان ٹکٹ لينے سے معذرت کرينگے، اگر یہ انہیں نوٹ بھی دیں گے تو  ٹکٹ لينے سے انکار کرديں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسد قیصر نے پارليمانی روايات کی دھجياں اڑا ديں، اسپيکر قومی اسمبلی کا اعتماد کھوچکے ہيں۔

حکومتی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ چوہدری برادران سے بات چيت جاری ہے مگر حتمی فيصلہ ابھی نہيں ہوا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اکثریت نے کہا ہے کہ اتحادیوں کو اپوزیشن کا ساتھ دینا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ملک کی سالمیت کیلئے عمران خان کوہٹانا ناگزیرہے اگر عمران خان کو الگ نہ کيا تو پاکستان کا وجود خطرےميں ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں آئندہ سیاسی صورتحال سے متعلق شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے،خواہش ہے فوری طور پر شفاف انتخابات ہوں، اليکشن میں قوم جس کو مينڈيٹ دے گی،اس کا احترام کريں گے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی رکن نے مجھے یہ نہيں کہا کہ کہی سے کوئی کال آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا فیصلہ نواز شریف کریں گے۔ صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ حکومت کو ميثاق معيشت کی آفر کی تھی جو حقارت سے ٹھکرادی گئی، ميری خواہش ہے کم ازکم ہم 3،4ايشوزپر اکٹھے ہوجائيں۔

انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چيف کی تعيناتی يا توسيع پر ملکی مفاد ميں فيصلہ کرينگے،میرےہر  آرمی چیف سے تعلقات بہت اچھے رہے۔صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ نيب نيازی گٹھ جوڑ کو توڑ ديں گے،قانون اپنا راستہ بنائے گا۔

No Confidence Motion

PM IK

Tabool ads will show in this div