کراچی:گرین لائن بس سروس سے جڑے دلچسپ حقائق

اب ابھی بہت کام باقی ہے

کراچی گرين لائن بس سروس کے آدھے ادھورے منصوبے نے کسی حد تک ٹرانسپورٹ کےمسائل کم کردئیے تاہم اب ابھی بہت کام باقی ہے۔

کراچی میں چند ماہ قبل گرین لائن بس سروس کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی میں جدید ٹرانسپورٹ سسٹم  کی بنیاد رکھ دی گئی۔ تاہم لیکن ٹاورکےبجائےنمائش تک نامکمل ٹریک اورفیڈر بسیں نہ چلنے کے باعث شہری اس انقلابی سہولت سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پارہے ہیں۔

نجی کمپنيوں کے بائيک رائیڈرز نے اس مسئلے کا حل اپنی سروس دےکر نکال ليا ہے۔ گرين لائن اسٹيشنز کے باہر مسافروں کو ان کی اگلی منزل پر پہنچانے کيلئے بائیک رائیڈرز موجود ہوتے ہيں۔

اس وقت  گرين لائن کا استعمال کرنے والوں ميں موٹرسائيکل سواروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو اپنی موٹرسائيکليں بس اسٹيشن کے باہر کھڑی کرکے اے سی بس ميں آرام دہ اور باکفايت طريقے سے منزل پر پہنچتے ہيں۔

 شہر کے پہلے ميگا ٹرانسپورٹ پروجيکٹ پر اس وقت روزانہ 50 ہزار مسافر سفر کررہےہيں۔ انتظاميہ رش کوديکھتے ہوئے محدود اسٹيشنز پر رکنے والی ايکسپريس سروس شروع کرنے کی بھی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

گرین لائن بس سروس کے مختلف اسٹيشنز پر برقی زينے کام نہيں کررہے ہيں جبکہ لفٹس کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے بزرگ اور معذور مسافروں کو بھی پريشانی کا سامنا ہے۔

سماء سے بات کرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ گرین لائن کی بسوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے اور ٹریک کو اس کی اصلی منزل ٹاور تک لے جایا جائے۔

Green Bus

GREEN LINE

Tabool ads will show in this div