تحریک انصاف کے14 ايم اين ايز کے اپوزیشن سے رابطے

رابطے کرنے والے اراکين کاتعلق جنوبی پنجاب سے ہے
رابطے کرنے والے اراکين کاتعلق جنوبی پنجاب سے ہے
رابطے کرنے والے اراکين کاتعلق جنوبی پنجاب سے ہے

   

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے 14 اراکين قومی اسمبلی اپوزیشن کے ساتھ رابطے ميں ہيں۔

ذرائع کے مطابق 2 ممبران کی پيپلزپارٹی اور 3 کی ن ليگ سے بات چيت تقريبا آخری مراحل ميں ہے۔ تحریک عدم اعتماد اور اگلے انتخابات ميں ساتھ چلنے کی بات کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی  نے ایم این اے خواجہ شیراز کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے جبکہ ن لیگ نے ریاض مزاری اور امجد کھوسہ کو پیغامات بھجوائے۔

واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکرآفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد ضرور کامیاب ہوگی۔

 شہباز شریف کہتے ہیں کہ ذاتی نہیں صرف قومی مفاد میں فیصلہ کیا گیا ہے، یہ پاکستان کے عوام کے جذبات کی عکاسی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپنے نظریات اور پاکستان کی بنیاد و اساس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، اب ان کے دن گنے جاچکے ہیں، ان کی بساط لپٹ چکی ہے، سیاست چلتی رہے گی، اتفاق و اختلاف بھی ہوگا، ملکی مفاد میں ہم سب متحد ہیں۔

تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

مجموعی طور پر متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے 24 ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے۔ اگر متحدہ اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

قومی اسمبلی میں حکمران  جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن  شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

No Confidence Motion

pti govt

Tabool ads will show in this div