شیخ رشید کا بڑا دعویٰ،آئندہ 72 گھنٹے اہم قرار دیدیئے

مولا جٹ کی سیاست نہیں چلے گی

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پاکستانی سیاست میں اگلے 72 گھنٹے اہم قرار دینے کا دعویٰ کردیا۔ سما سے خصوصی گفتگو میں یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے کہ عدم اعتماد کے علاوہ کچھ اور نکل آئے۔

منگل 15 مارچ کو نمائندہ سما محسن بلال سے خصوصی گفتگو میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان کی سیاست اہم مراحل میں داخل ہوچکی ہے، اگلا ہفتہ جوڈو کراٹے کا ہفتہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے آئندہ 72گھنٹے بہت اہم قرار دے دیئے۔ شيخ رشيد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آج شام تک سارے سياسی حالات ٹھيک ہوجائيں گے۔

اپوزیشن

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے 4 سال میں کنفیوژن پھیلائی ہے، ایک سال الیکشن میں رہ گیا ہے، ان کا اوپر والا خانہ خالی ہے۔ ڈی چوک میں حالات کنٹرول کریں گے، نہ ہوسکے تو یہ جانیں اور ان کا کام جانے، وہ چار مہینے سے آ رہے ہیں، آنے دیں انہیں، کوئی حادثہ ہو گیا تو نقصان اپوزیشن کا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان کو سمجھنا چاہیے مولا جٹ کی سیاست نہیں چلے گی۔ ان کی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ سارے اتحادی ہماری طرف آئیں گے۔ اپوزیشن کی جانب سے 172ووٹوں کیلئے مارکیٹ میں بولیاں لگ رہی ہیں۔

امپائر کس کے ساتھ ہے

ایک صحافی کی جانب سے جب نیوٹرل امپائر پر سوال کیا گیا تو شیخ رشید کا کہنا تھا کہ امپائر پاکستان کے ساتھ ہیں، میں جن کو جانتا وہ ان کو سمجھا رہے ہیں کہ اپنے معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، میری پارٹی وہ ہے جو پاکستان کا سوچ رہی ہے۔ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو دما دم مست قلندر ہوگا۔

بلاول سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میری اس عمر میں بھی کوئی چیز نہیں کانپ رہی، بلاول سے میرا کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا، بلاول سے منسوب میرے بیان غلط پیش کیے جاتے ہیں۔ حکومت نے بلاول کا جو لانگ مارچ تھا اس کو زیادہ سیکیورٹی دی۔ پنجاب کی سیاست پر وزیر داخلہ نے کہا کہ اللہ نہ کرے نہ ایسا وقت آئے کہ زرداری اور پی پی پنجاب فتح کریں۔

حکومت اتحادی

حکومتی اتحادیوں کا ذکر کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ چوہدری برادران کو کچھ کہوں گا تو وہ جلدی خفا ہو جاتے ہیں۔ چوہدری برادران کو مشورہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ رہیں، میں مشورہ دے سکتا ہوں آگے ان کا اپنا فیصلہ ہے، جو نسلی اور اصلی دوست ہوتا ہے وہ ساتھ کھڑا ہوتا ہے، جو غیرت مند ہیں وہ عمران خان کے ساتھ ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گرینڈ ڈیمو کریٹک موومنٹ الائنس ( جی ڈی اے) ، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) اور متحدہ قومی موؤمنٹ ( ایم کیو ايم) ہمارا ساتھ دینگی، اگر کوئی ممبر بک گیا یا کسی نے ہیر پھیر کی تو پھر لگ پتا جائے گا۔ ميں چٹان کی طرح عمران خان کے ساتھ ہوں۔

ڈی چوک جلسہ

تحریک انصاف کے ڈی چوک جلسے سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن کی بے وقوفیوں کی وجہ سے عمران خان زیادہ مضبوط ہوئے، اگر عمران خان پہلے یہ جلسے کرتے تو عدم اعتماد کی تحریک نہ آتی۔ عمران خان نے جلسے کرنے میں دیر کی۔

PTI

IMRAN KHAN

تحریک عدم اعتماد

Tabool ads will show in this div