اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی

پیر کو 21ماہ کا کم ترین کاروباری حجم ریکارڈ

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کا تسلسل دوسرے کاروباری ہفتے میں بھی داخل ہوگیا، پیر کو 21 ماہ کا کم ترین کاروباری حجم ریکارڈ کیا گیا، کے ایس ای 100 انڈیکس 286 پوائنٹس گر گیا۔

کاروباری ہفتے کے پہلے دن پیر کو ٹریڈنگ کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھنے میں آیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 43 ہزار 767 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا لیکن بعد ازاں حکومتی و اپوزیشن نمائندوں کے بیانات کی وجہ سے سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگئے اور نئی سرمایہ کاری سے گریز کے باعث مندی لوٹ آئی جو آخر تک برقرار رہی۔

پی ایس ایکس میں کاروبار کے اختتام پر پر کے ایس ای 100 انڈیکس 286 پوائنٹس کی کمی سے 43 ہزار 366 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 ڈالر فی بیرل تک کی نمایاں کمی کے سبب آئل اینڈ گیس سیکٹر زیادہ فعال رہا، جبکہ مجموعی طور پر پیر کو 334 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں 242 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 79 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 13 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

پی ایس ایکس کے مطابق بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی آنے کے باعث سرمایہ کاروں کو 56 ارب 27 کروڑ 58 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم 11 کروڑ 40 لاکھ شیئرز رہا جو 21 ماہ کا ریکارڈ ایک روز کا کم ترین کاروباری حجم ہے، اس سے قبل 5 جون 2020 کو 8 کروڑ 90 لاکھ شیئرز کی لین دین ہوئی تھی اس کے بعد پیر کو ایک روز میں سب سے کم شیئرز کی خرید فروخت  ریکارڈ کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ 7 مارچ یا 11 مارچ کے دوران غیر معمولی اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ دیکھنے میں آیا، جس میں پیر کو 1284 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، منگل کو بھی 388 پوائنٹس کی کمی ہوئی، بدھ کو 164 پوائنٹس کا اضافہ اور جمعرات کو 810 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جمعہ کو 200 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

گزشتہ ہفتہ مجموعی طور پر 898 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں دو کھرب 13 ارب 80 کروڑ 49 لاکھ روپے کی کمی ہوگئی تھی۔

اسٹاک ماہرین کے مطابق سرمایہ کار روس و یوکرین جنگ کے نتیجے میں خام تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے سائیڈ لائن تھے تاہم تیل کی قیمتوں میں تو کمی آرہی ہے لیکن اب ملکی سطح پر سیاسی عدم استحکام کے باعث سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہیں۔

اسٹاک تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ صورتحال قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں صورتحال واضح ہونے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

PSX

KSE100 Index

Tabool ads will show in this div