حکمرانوں کےمخالفین کیلئے سخت کلمات محاورتا ہوتے ہیں،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ

اختلاف اور اختلاف رائے ہر جگہ ہوتا ہے
اختلاف اور اختلاف رائے ہر جگہ ہوتا ہے
اختلاف اور اختلاف رائے ہر جگہ ہوتا ہے

بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان نےکہا ہے کہ جلسوں میں حکمرانوں کے مخالفین کے لیے سخت کلمات محاورتا ہوتے ہیں اورعملی طور پر نہیں،اختلاف اور اختلاف رائے ہر جگہ ہوتا ہے۔

بلوچستان ہائیکورٹ میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف دائر آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم عمران خان کے کراچی میں خطاب کے دوران سیاسی قائدین کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کی گئی اور مولانا فضل الرحمن کے نام کو بگاڑا گیا جب کہ آصف زرداری کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم کو پابند کیا جائے کہ وہ بات تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا کریں۔

چیف جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دئیے کہ ماضی میں بھی حکمرانوں نے بہت سی غیرسنجیدہ باتیں کیں،کسی نے کہا کہ پیٹ پھاڑ دوں گا تو کسی نے کہا کہ گلے میں پٹہ ڈال کر کھینچوں گا۔

چیف جسٹس نےمزید ریمارکس دئیے کہ حکمرانوں کی یہ باتیں محاورتا ہوتیں ہیں اورعملی طور پر نہیں،اختلاف اور اختلاف رائے ہر جگہ ہوتا ہے۔

عدالت نے آئینی درخواست کی سماعت 25 مارچ تک ملتوی کردی۔

IMRAN KHAN

BALUCHISTAN

Tabool ads will show in this div