بلاول بھٹو نے پی پی اراکین کو ظہرانے پر بلا لیا

زرداری کی دیگر رہنماؤں سے ملاقاتوں میں تیزی آگئی
Mar 10, 2022

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے اراکين قومی اسمبلی کو آج بروز جمعرات 10 مارچ کو اسلام آباد ميں ظہرانے پر بلا لیا ہے۔

ظہرانہ

ظہرانے سے قبل پی پی چیئرمین پارٹی پالیسی اور عدم اعتماد سمیت دیگر امور پر اراکین کے ساتھ مشاورت بھی کریں گے۔ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ظہرانے میں سابق صدر آصف علی زرداری بھی شریک ہوں گے۔ بلاول بھٹو نے تمام ارکان قومی اسمبلی کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

اس موقع پر بلاول بھٹو اپنے پارٹی ارکان کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اعتماد میں لیں گے۔ ظہرانے سے قبل ہونے والی مشاورت میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے پیپلز پارٹی کی حکمت عملی پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ ظہرانہ دن ایک بچے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا۔

زرداری

ایک جانب وزیراعظم سیاسی محاذ پر متحرک ہوگئے ہیں تو دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی دیگر پارٹیوں اور اراکین سے ملاقاتیں شروع کردی ہیں۔ سابق صدر کی آج 10 مارچ کو متحدہ قومی موؤمنٹ ( ایم کیو ایم) کے وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کا امکان ہے۔ قبل ازیں سابق صدر آصف علی زرداری سے پی ٹی آئی رہنما سردار یار محمد رند کی دو روز میں دوسری ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان رات گئے ہونے والی ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی، ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی سردار یار محمد رند سے آصف زرداری کی ملاقات میں شریک ہوئے۔

پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم (ق) مرکز اور پنجاب میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اہم اتحادی ہے، جس کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے ایک وفاقی وزیر کے ہمراہ سابق صدر آصف علی زرداری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

اس سے ایک روز قبل ہی چوہدری شجاعت حسین نے اسلام آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی۔

ترین علیم گروپ

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے کی کوشش میں پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین کے دھڑے میں شمولیت کے اعلان کے صرف دو روز بعد پی ٹی آئی کے منحرف رہنما علیم خان بھی جہانگیر ترین کے ساتھ حالیہ پیش رفت پر بات چیت کرنے کے لیے بدھ 9 مارچ کی صبح لندن روانہ ہوئے۔

لندن میں ان کی آمد نے جہانگیر ترین سےملاقات کے بارے میں قیاس آرائیوں کے ساتھ ہی لاہور اور اسلام آباد میں ڈرامائی سیاسی پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے ممکنہ ملاقات کے بارے میں سوالات کو جنم دیا۔

سیاسی منظر سے غائب مریم

کافی دنوں سے سیاسی منظر سے غائب مریم نواز شریف نے کراچی میں گزشتہ روز وزیراعظم کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ تحریک عدم اعتماد میں کچھ وقت باقی ہے۔

وزیراعظم کی تازہ ترین تقریر میں لفظ 'بندوق' کے استعمال کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے ہی ہتھیار پھینک چکے ہیں۔

PTI

ZARDARI

IMRAN KHAN

BILAWAL BHUTTO

تحریک عدم اعتماد

Tabool ads will show in this div