فیصل واوڈا کی خالی سینیٹ نشست پر انتخاب،پولنگ جاری

پولنگ شام 4 بجے تک جاری رہے گی

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی سے خالی ہونے والی سندھ سے سینیٹ کی جنرل نشست پر پولنگ آج بروز بدھ 9 مارچ کو ہورہی ہے۔

صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اور ریٹرننگ افسر سعید گل کے دفتر سے جاری ہونے والی حتمی امیدواروں کی فہرست کے مطابق تحریک انصاف کے آغا ارسلان، پیپلز پارٹی کے نثاراحمد کھوڑو اور 2 آزاد امید واروں میں عاجز دھامرا اور گل محمد جاکھرانی شامل ہیں۔ دونوں آزاد امیدواروں کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے، جب کہ تحریک انصاف کے کورنگ امیدوار علی احمد پلھ الیکشن سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

سینیٹ کی اس خالی نشست کے لئے پولنگ سندھ اسمبلی بلڈنگ میں صبح 9 بجے سے شام تک ہوگی۔ واضح رہے کہ دُہری شہریت کے باعث فیصل واوڈا کو نااہل قرار دینے پر یہ نشست خالی ہوئی تھی۔ سال 2018 کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کے ساتھ دہری شہریت کے معاملے پر جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیر رہنما فیصل واوڈا کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اپنا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے فیصل واوڈا کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ بطور رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر حاصل کی گئی تنخواہیں اور مراعات دو ماہ کے اندر سیکریٹری قومی اسمبلی کو واپس جمع کروائیں۔

الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹیفیکشن بھی واپس لینے کے احکامات جاری کیے تھے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فیصل واوڈا نے اپنا جرم چھپانے کے لیے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفی دیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 63 ون سی کا بھی حوالہ دیا جو کہ دہری شہریت سے متعلق ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کا بھی حوالہ دیا جو کہ تاحیات نااہلی سے متعلق ہے۔

دائر درخواست میں مؤقف

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے 11 جون 2018 کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے جس میں انھوں نے دہری شہریت ظاہر نہیں کی اس بات سے قطع نظر کہ وہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت بھی امریکی شہریت کے حامل تھے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ فیصل واوڈا کے کاغذات 18 جون 2018 کو منظور ہوئے جبکہ انھوں نے امریکی شہریت چھوڑنے کے لیے درخواست 22 جون 2018 کو جمع کروائی اور انھیں امریکی سفارت خانے سے شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ 25 جون 2018 کو ملا جو کہ ان کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد تھا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرواتے ہوئے دہری شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ موجود ہونا ضروری ہے۔

فیصل واوڈا کی درخواست

فیصل واوڈا نے گذشتہ سال اکتوبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر کارروائی سے روکنے کے لیے درخواست دائر کی تھی البتہ عدالتِ نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو دو ماہ میں اس معاملے پر فیصلہ دینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے گذشتہ ماہ اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فیصل واوڈا کی اہلیت کو چیلنج کرنے والوں میں عبدالقادر مندوخیل بھی ہیں جو فیصل واوڈا کی طرف سے چھوڑی گئی قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔ جنوری 2020 میں پاکستان کے ’دی نیوز‘ اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور مخالف امیدوار عبدالقادر مندوخیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل واوڈا کی اہلیت کو چیلنج کیا تھا۔

فیصل واوڈا

فیصل واوڈا کا شمار کراچی کی مشہور کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے۔ فیصل واوڈا سال 2011 سے پاکستان تحریک انصاف کے سرگرم کارکن کی حیثیت سے اس جماعت کے ساتھ منسلک تھے اور کراچی میں اپنے حلقے میں اس جماعت کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ ان کے پاس امریکا کی شہریت بھی تھی تو اس عرصے کے دوران ان کا امریکا میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔

فیصل واوڈا کا نام سال 2016 میں اُس وقت سامنے آیا جب قومی احتساب بیورو نے انہیں اثاثوں اور کراچی میں الاٹ کیے پلاٹوں کی چھان بین کے لیے نوٹس جاری کر کے طلب کیا تھا۔

پھر سال 2018 میں ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے انہیں کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 سے ٹکٹ دیا اور انہوں نے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کو چھ سو سے زائد ووٹوں سے ہرایا تھا۔ ان انتخابات کے نتائج کے بعد ہی ان کے خلاف درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس میں ان پر غیر ملکی اثاثے چھپانے کے علاوہ کاغذات نامزدگی میں حقائق توڑ موڑ کر پیش کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔

اکتوبر سال 2018 میں انھیں وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا اور انھیں آبی وسائل کے بارے میں وزارت کا قلمدان سونپا گیا۔ جب نومبر سال 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ کے باہر دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا تو فیصل واوڈا بلٹ پروف جیکٹ پہنے، ہاتھ میں پستول لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ متاثرہ علاقے میں گھومتے ہوئے دکھائی دیے گئے تھے جس کے بعد ان پر کافی تنقید کی گئی تھی۔

فروری 2019 میں جب پاکستانی فضائیہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین طیارہ مار گرایا اور انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھیندن کو گرفتار کیا گیا تو وفاقی وزیر فیصل واوڈا پستول لے کر اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں پر انڈین جہاز کا ملبہ پڑا ہوا تھا۔ فیصل واوڈا کو سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اس وقت سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک ٹاک شو میں فوجی بوٹ لے کر آگئے اور اس کو اپنے سامنے میز پر رکھ کر اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرنے لگے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے بھی اس پر اپنا سخت ردعمل دیتے ہوئے اس ٹاک شو پر کچھ عرصے کے لیے پابندی عائد کر دی تھی۔

SENATE

سینیٹ

فیصل واؤڈا

Tabool ads will show in this div