اسرائیل دشمن نہیں ممکنہ اتحادی ہے، سعودی ولی عہد

ایران ہمسایہ ملک ہے ملکر کام کرنے میں دونوں کی بہتری ہے

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کا ممکنہ اتحادی ملک ہے۔

جمعرات 3 مارچ کو امریکی میگزین دی اٹلانٹک کے دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ حل ہو جائے گا۔

محمد بن سلمان کا مزید کہنا تھا ہم اسرائیل کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے بلکہ ہم اسے اپنا ممکنہ اتحادی سمجھتے ہیں تاکہ مشترکہ مفادات کو مل کر حاصل کیا جائے مگر وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں کچھ مسائل حل کرنا ہوں گے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کو بڑی غلطی قرار دیا اور کہا کہ ان پر نامناسب طور پر اس قتل کا الزام عائد کیا گیا۔

ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمارے ہمسائے میں ہے ہم ان سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ اس لیے دونوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ مل کر کام کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ ہم ایک ایسے نکتے پر پہنچ جائییں گے جو دونوں ملکوں کے لیے بہتر ہو گا اور جس سے ہمارے ملک اور ایران دونوں کا مستقبل روشن ہو گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں تاہم 2020 میں سعودی عرب کے اتحادی ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔

سعودی عرب مسلسل اس موقف کو دہراتا رہا ہے کہ جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ تنازعے کا حل نہیں کرتا، اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا تاہم حالیہ کچھ عرصے میں سعودی موقف میں خاصی لچک دیکھی گئی ہے۔

saudi prince

Israeli-Palestinian conflict

Tabool ads will show in this div