یور منکی وِد اَس

کلبھوشن کو پاک ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیاگیاتھا

کلبھوشن یادھو کا معاملہ کیا ہے؟چھ سال قبل جب بھارتی حاضر سروس اور را ایجنٹ کلبھوشن جادھو کو گرفتار کیا گیا تھا تو ایک جملہ "یور منکی وہد آس" سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوا تھا۔ یہ کلبھوشن کا خفیہ کوڈ تھا، جس سے متعلق اس کا کہنا تھا کہ آگر آپ ریڈیو سگنل استعمال کرتے ہوئے اسے بولیں گے تو وہ سمجھ جائیں گے کہ کون پکڑا گیا ہے۔

یہ جملہ کلبھوشن سے متعلق خفیہ کوڈ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے کلبھوشن کی گرفتاری کے کامیاب آپریشن کو آج بروز جمعرات 3 مارچ کو 6 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

چھ سال قبل 3 مارچ 2016 کو پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے بھارتی شہری اور حاضر سروس نیوی آفیسر کلبھوشن جادھو کو پاکستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مارچ 24 کو پاکستانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ کے افسر اور بھارتی انٹیلی جنس ادارے را کے ایجنٹ ہیں اور انہیں پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے سراوان سے گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں کلبھوشن کا ویڈیو پیغام بھی منظر عام پر آیا تھا، جس میں اس کا کہنا تھا کہ را نے مسلح تنظیموں کو سمندر اور بندرگاہوں پردہشتگردی کا ہدف دیا تھا، جس کے بعد بھارت نے اپنی بحری جنگی مہارت کو بلوچستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کررہا تھا۔

اعترافی ویڈیو کا بیان

سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار بھارتی جاسوس پاکستان میں تخریب کاری کا اعتراف بھی کر چکا ہے۔

کل بھوشن یادیو کا اپنے اعترافی بیان میں کہنا تھا کہ اس نے 1987میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی اور 1991میں بھارتی نیوی میں شمولیت اختیار کی، دسمبر سال 2013 تک وہ بھارتی نیوی میں خدمات سرانجام دیتا رہا،اس کے بعد بھارتی پارلیمنٹ حملہ ہوا یہ وہ وقت تھا جب میں بھارتی خفیہ ایجنسی کیلئے فرائض انجام دینا شروع کیے۔

را افسر کلبھوشن نے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ اس نے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں بلوچ دہشتگرد تنظیموں کیلئے تیز رفتار بوٹس خریدی تھیں۔ اس نے مسلح تنظیموں کے کارندوں کو سمندر میں دہشتگردی کی تربیت دی تھی۔ کل بھوشن یادیو سے تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہےکہ بلوچ دہشتگردوں کو تربیت کے لیئے ممبئی منتقل کیا گیا تھا۔

بھارتی ایجنٹ نے اعتراف کیا کہ وہ ممبئی میں رہتا ہے اور بھارتی نیوی کا افسر ہے ،وہ 2022میں ریٹائر ہوگا، بنیادی طور پر میں جوائنٹ سیکریٹری انیل کمار گپتا کے ماتحت کام کرتا تھا۔

کل بھوشن یادیو کا کہناتھا کہ وہ 2003 اور 2004 میں کوڈ نام کے ساتھ کراچی میں رہا، میرا مقصد بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ رابطوں میں رہنا تھا،بطور”را“ آفیسر کراچی اور بلوچستان میں کارروائی کرتا رہا، کام کے دوران پتا چلا کہ ”را“بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ کام کررہی ہے، پاکستان میں پکڑے جانے کے بعد اپنی شناخت ظاہر کر دی اور جب پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو بتایا کہ میں کون ہوں تو انہوں نے مجھے بہت اچھی طرح سے ڈیل کیا۔

آئی ایس پی آر

کلبھوشن کی گرفتاری پر ترجمان پاک افواج کا کہنا تھا کہ بھارت ، پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے اور کلبھوشن اس بات کا ثبوت ہے، گوادر پورٹ 'را' کا بڑا ہدف تھا،اعترافی ویڈیو میں کل بھوشن نے اپنا خفیہ کوڈ (یور منکی وہد آس) کے بارے میں بھی بتایا تھا۔ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ کلبوشھن یادیو کی گرفتاری کے بعد بہت سے سوال اٹھ رہے تھے جن کے جواب ضروری ہیں۔

اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویزرشید اورڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی ایجنٹ کی ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی تھی۔

Pakistan Releases Video of Indian Officer, Saying He's a Spy - The New York  Times

ایف آئی آر

اسی سال اپریل میں کلبھوشن کے خلاف بلوچستان کی حکومت نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ جس کے بعد بھارت کے متضاد دعوے، جوابی الزامات، اعترافی بیان، جاسوسی کرنے پر کلبھوشن یادیو کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل، تخریب کاری اور دہشت گردی کی دفعات کے واقعات رونما ہوئے اور پھر یہ کیس بین الاقوامی عدالت انصاف میں جا پہنچا۔

فوجی عدالت

اپریل سال 2017 میں کلبھوشن جادھو کو فوجی عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔

سزا روکنے کیلئے اپیل

بھارت نے پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے کلبھوشن کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کے بعد پھانسی پر حکم امتناع جاری کردیا گیا تھا۔

مئی 10 سال 2017 کو بھارت نے کلبھوشن جادھو کی پھانسی کی سزا پر عمل رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی۔ 15 مئی کو عالمی عدالت میں بھارتی درخواست کی سماعت ہوئی۔ دونوں جانب کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت دی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہ دی جائے۔

Not too bad for Pakistan, pretty bad for India': Reactions pour in on ICJ  ruling in Jadhav case - Pakistan - DAWN.COM

ایرانی مؤقف

چونکہ بھارتی جاسوس غیر قانونی طور پر ایران کی سرحد عبور کر کے بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا لہٰذا پاکستانی حکومت نے ایران سے رابطہ کیا تھا جس پر 16 جون کو ایران نے جواب بھجوایا تھا تاہم اس کی تفصیلات ذرائع ابلاغ میں جاری نہیں کی گئیں۔

اہل خانہ سے ملاقات

دفتر خارجہ میں کلبھوشن یادیو کی اس کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کروائی گئی، یہ ملاقات دونوں ممالک کے مابین سفارتی سرد مہری ختم کرنے کی غرض سے جذبہ خیر سگالی کے تحت کروائی گئی اس دوران کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سیکیورٹی چیک سے گزارا گیا اور ملاقات میں کسی دوسری زبان میں بات کرنے پر بھی پابندی تھی۔

بھارتی اخبار میں اعتراف

جنوری سال 2018 میں بھارتی خبروں کی ایک ویب سائٹ ’دی قوائنٹ‘ نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ کلبھوشن یادیو ’را‘ کا ملازم تھا اور پاکستان میں ایجنٹس کے لیے انسانی وسائل کو استعمال کرنے کی نئے سرے سے کوششیں کررہا تھا‘۔ بعد ازاں فروری میں بھارت کے ایک مایہ ناز جریدے ’فرنٹ لائن‘ نے ایک آرٹیکل میں اس بات کا اعتراف کیا کہ کلبھوشن ممکنہ طور پر نیوی افسر تھا اور بھارت پاکستان میں خفیہ طور پر جنگ کررہا ہے۔

پلواما حملہ

پلواما حملے کے پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے باقاعدہ جھڑپ کے بعد عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا تھا جس میں بھارت نے اعلیٰ عدالت سے استدعا کی کہ کلبھوشن کے خلاف سزا کو مسترد کیا جائے۔

KULBHUSHAN JADHAV

Tabool ads will show in this div