کالمز / بلاگ

مینزٹینس کا نیاعہد: ڈینیل میڈیڈیف نئےعالمی نمبرون بن گئے

بگ فور کی 18 سالہ بالادستی ختم

یوکرین پر فوجی حملے کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ملکوں کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں اور کھیلوں کے کئی مقابلوں میں بھی روس کی شرکت پر قدغن لگادی گئی ہے۔

انگلش فٹبال کلبس نے روس کا بائیکاٹ کر دیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ روس کو یوایفا چیمپئنز لیگ کے  فائنل  اور فارمولا ون کی میزبانی سے بھی محروم کر دیا گیا ہے ان حالات میں روس کے  26سالہ ٹینس اسٹار ڈینیل میڈیڈیف ٹینس کی عالمی رینکنگ میں بگ فور کی 18 سالہ بالادستی کا خاتمہ کرتے ہوئے عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر براجمان ہو گئے۔

ڈینیل میڈیڈیف نے سرب لیجنڈ نواک جوکووچ کو اس پوزیشن سے محروم کیا ہے جو  فروری 2020 سے بلا شرکت غیرے اس منصب پر قابض تھے۔ ڈینیل میڈیڈیف مینز عالمی نمبر ایک بننے والے دنیا کے 27 ویں کھلاڑی ہیں۔ ڈینیل میڈیڈیف اور ان کے ساتھی کھلاڑی روبیلف نے یوکرین پر حملے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے امن کے فوری قیام کی اپیل کی ہے۔

ڈینیل میڈیڈیف کے عالمی نمبر ایک کے درجے پر فائز ہونے کے ساتھ ہی ٹینس کی دنیا میں نئی جنریشن کے عہد کا آغاز ہو گیا۔ اس نئی اور با صلاحیت جنریشن میں ڈومینک تھیم‘ الیگزینڈر زیوریف‘ آندری روبیلف‘ اسٹیفانوس تیسسیپاس‘ نک کرگیوس‘ جانک سنر‘ ہوبرٹ ہرکاز‘ کیمرون نوری‘ میتھیو بریٹینی اور دیگر کئی کھلاڑی شامل ہیں جو شاندار کھیل پیش کر رہے ہیں۔

میکسیکو میں کھیلے جانے والے میکسیکن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میں روسی اسٹار نے کامیابی حاصل کر کے عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پکی کر لی تھی کیونکہ سرب لیجنڈ نواک جوکووچ کو غیر متوقع طور پر دبئی اوپن کے کوارٹر فائنل میں جمہوریہ چیک سے تعلق رکھنے والے کوالیفائر اور عالمی نمبر 123 جیری ویسیلی کے ہاتھوں کوارٹر فائنل میں دو سیٹ میں ہی

  6-4,7-6(7-4)سے شکست کا منہ دیکھا پڑا یہ ان کا آسٹریلیا سے ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد جوکووچ کا پہلا ٹورنامنٹ تھا۔

روسی کھلاڑی میڈیڈیف نے کوارٹر فائنل میں یوشی ہیٹونیشیوکا کو 6-2,6-3 سے ہرایا تھا لیکن رافیل نڈال کے خلاف سیمی فائنل میچ کا نتیجہ آسٹریلین اوپن فائنل کے نتیجے جیسا ہی رہا جس میں نڈال ایک بار پھر اپنے روسی حریف اور نئے عالمی نمبرایک پر حاوی رہے۔ہسپانوی اسٹار نے 6-3,6-3 سے بآسانی کامیابی حاصل کرلی۔اکاپولکو میں کھیلے جانے والے اس سیمی فائنل میں دفاعی چیمپثن میڈیڈیف نے کئی غلطیاں کیں جوان کی شکست کا سبب بنیں۔

ڈینیل میڈیڈیف نے میچ کے بعد اپنی ان غلطیوں کااعتراف کیا اورکہاکہ آسٹریلین اوپن چیمپئن کے خلاف اس میچ میں میرا کھیل معیار کے مطابق نہیں تھا اور اس میں خاصی کمی تھی۔ رافیل نڈال زبردست فارم میں تھے جنہوں نے سروس گھنوائے بغیر میچ میں ڈینیل میڈیڈیف کے 11 بریک پوائنٹس بچائے۔ د

ونوں کھلاڑی چھٹی مرتبہ مدمقابل تھے  جن میں سے پانچ بار نڈال فاتح رہے اورایک مرتبہ روسی کھلاڑی کو کامیابی نصیب ہوئی۔ اس سیمی فائنل میں رافیل نڈال نے 11 بریک پوائنٹس میں کامیاب دفاع کر کے اپنا  ذاتی نیا ریکارڈ قائم کیا۔

دبئی اوپن جوکووچ کا 2022  کے رواں سیزن کا پہلا ٹینس ٹورنامنٹ تھا جس میں انہوں نے شاندار آغاز کیا تھا لیکن کوارٹر فائنل میں انہیں جمہوریہ چیک سے تعلق رکھنے والے عالمی نمبر123  جیری ویسیلی نے دو سیٹ میں ہرا کر اپ سیٹ کر دیا۔ دوسرے سیٹ کے اعصاب شکن مقابلے میں چیک کھلاڑی نے غیرمعمولی کھیل پیش کیا۔

دوسرے سیٹ کے ٹائی بریکر میں جوکووچ نے ڈبل فالٹ کیے اور وہ جیری کے گراؤنڈ سٹروکس اور بیک ہینڈ شاٹس کا موثر جواب دینے میں ناکام رہے۔ ویسیلی کا کہنا ہے کہ جوکووچ دنیا کا بہترین کھلاڑی ہے اور اس کے خلاف جیتنا بڑا کارنامہ ہے۔ ویسیلی نے جوکووچ کو دوسری مرتبہ شکست سے دو چار کیا ہے اس سے قبل چیک کھلاڑی جیری ویسیلی نے 2016 میں مونٹی کارلو کی کلے کورٹ پر کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ میں سرب اسٹار کو زیر کیا تھا۔

سربیا سے تعلق رکھنے والے نواک جوکووچ کرونا ویکسی نیشن نہ کروانے کی وجہ سے انہیں آسٹریلیا سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا اوروہ میلبورن میں اپنے آسٹریلین اوپن ٹائٹل کا دفاع نہیں کر سکے تھے۔

گرینڈ سلام ایونٹ میں عدم شرکت نے انہیں قیمتی رینکنگ پوائنٹس سے بھی محروم کر دیا تھا جس کے نتیجے میں اب جوکووچ عالمی نمبر ایک کی پوزیشن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور مستقبل قریب میں ان کے اس پوزیشن پر دوبارہ واپس آنے کے امکانات اس لیے معدوم دکھائی دیتے ہیں کہ پیرس میں ہونے والے گرینڈ سلام فرنچ اوپن  اور برطانیہ میں ومبلڈن میں بھی شرکت نہیں کرسکیں گے کیونکہ ان میں شرکت کیلئے بھی کوویڈ ویکسی نیشن کی لازمی شرط عائد ہے۔

جوکووچ نے یہ اعلان کر کے اپنی عدم شرکت پر مہر ثبت کر دی ہے کہ کوویڈ ویکسی نیشن ان کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ اس پر گرینڈ سلام ایونٹس  اور دیگر ٹورنامنٹس کو قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ ان دونوں گرینڈ سلام ٹورنامنٹس میں جوکووچ کو اپنے اعزازات کا دفاع کرنا ہے۔

 امریکہ میں بھی ٹینس ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کیلئے ویکسی نیشن لازمی ہے اس طرح وہ وہاں اگلے ماہ ہونے والے دو ٹورنامتنٹس میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے جن میں شمولیت کے خاصے رینکنگ پوائنٹس ہیں۔ ان حالات میں  2022  کا سال میڈیڈیف کیلئے عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پراپنے قبضے کو مزید مستحکم کرنے کیلئے اہم ثابت ہو گا۔

میڈیڈیف  18برسوں میں نڈال‘جوکووچ‘ فیڈرر اور اینڈی مرے کے سوا  اس مقام پر پہنچنے والا پہلا کھلاڑی ہے۔ راجر فیڈرر‘ نواک جوکووچ رافیل نڈال اوراینڈی مرے یہ چاروں کھلاڑی مجموعی طور پر 921ہفتے عالمی نمبرایک کی پوزیشن پر قابض رہے جس میں نواک جوکووچ سب سے زیادہ 361 راجر فیڈرر 310 رافیل نڈال 209 اور مرے 41 ہفتے عالمی نمبر ایک رہے ہیں۔ راجر فیڈرر نے 2 فروری  2004  کو امریکہ کیاینڈی روڈک کو عالمی نمبر ایک کا اعزاز چھینا تھا۔

میڈیڈیف 15 مارچ 2021کو عالمی نمبر دوکی پوزیشن پربراجمان ہوئے تھے اور وہ 24 جولائی 2005 کے بعد بگ فور کے سوا عالمی نمبر دو کی پوزیشن سنبھالنے والے پہلے کھلاڑی تھے۔ 2005 میں آسٹریلوی اسٹار لیٹن ہیوٹ عالمی نمبر دو بنے تھے۔

میڈیڈیف سے قیل برطانیہ کے اینڈی مرے نے نواک جوکووچ کو عالمی نمبر ایک کی پوزیشن سے 7 نومبر 2017  کو محروم کیا تھا اور وہ 41  ہفتے اس پوزیشن پر براجمان رہے تھے۔ رافیل نڈال نے اینڈی مرے کو 21 نومبر 2017 کو اس اعزاز سے محروم کر دیا تھا۔

ڈینیل میڈیڈیف کا کہنا تھا کہ عالمی نمبر ایک کا اعزاز حاصل کرنے پر خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ میں اس منصب کو برقرار رکھنے اور مزید گرینڈ سلام ٹائٹلز جیتنے کیلئے اپنی کارکردگی کو بہتر بناؤں گا۔ عالمی نمبر ایک بننے کے بعد میڈیڈیف کو دنیا بھر سے ٹینس کھلاڑیوں اوردیگر مداحوں کے مبارک باد کے پیغامات مل رہے ہیں۔

جوکووچ‘فیڈرر‘ نڈال اور دیگر سرکردہ  اسٹارز بھی ان میں شامل ہیں۔ جوکووچ کا کہنا تھا کہ اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے میڈیڈیف اس اعرزازکا بجا مستحق ہے۔ اس کا مستقبل  روشن ہے اورگرینڈ سلام اعزازات اس کے منتظر ہیں۔

ڈینیل میڈیڈیف عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر فائز ہونے والے روس کے تیسرے مرد کھلاڑی ہیں۔ ان سے قبل یفگینی کیفلنیکوف اور مراٹ سافن میں عالمی نمبر ایک بنے تھے۔  یفگینی کیفلنیکوف کو روس کی جانب سے پہلا عالمی نمبر 1 ہونے کا اعزاز حاصل ہے جنہوں نے امریکی سپر اسٹار پیٹ سمپراس سے 3 مئی 1999 کو یہ اعزاز چھین لیا تھا۔ کیفلنیکوف عالمی نمبر ا بننے والے  دنیا کے 16 ویں کھلاڑی تھے۔

وہ صرف چھ ہفتے اس منصب پر براجمان رہ سکے تھے اور پیٹ سمپراس نے ان سے دوبارہ عالمی نمبر ایک کی پوزیشن چھین لی تھی۔ کیفلنیکوف عالمی نمبر ایک بننے سے قبل دو گرینڈ سلام  آسٹریلین اوپن اور فرنچ اوپن جیت چکے تھے۔

مراٹ سافن یو ایس اوپن ٹائٹل جیتنے کے بعد نومبر 2000  میں عالمی نمبر ایک بننے والے دوسرے روسی کھلاڑی تھے۔ انہیں طویل ترین قامت والا عالمی نمبر ایک کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ وہ یو ایس اوپن ٹائٹل جیتنے والے پہلے روسی مرد کھلاڑی تھے۔ انہوں نے فائنل میں پیٹ سمپراس کو شکست دی تھی اور سمپراس کو  ہی عالمی نمبر ایک کے اعزاز سے محروم کیا تھا۔ مراٹ سافن کی بہن دینارا سفینہ بھی ویمنز عالمی نمبرایک کے منصب پر فائز رہ چکی ہیں۔

 میڈیڈیف کی صلاحیتوں کا ہرایک معترف ہے اور وہ ٹینس کی نئی جنریشن کی قیادت کررہے ہیں۔ سابق عالمی نمبر 6  جائلز سائمن کا کہنا ہے کہ میڈیڈیف غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل کھلاڑی ہے اس کے کھیل کا انداز منفرد ہے۔ وہ ٹینس کے کھیل کو شطرنج کی طرح کھیلتا ہے۔ اس میں آخری دم تک لڑنے کا جذبہ ہے۔ وہ نتائج کی پروا کیے بغیر بہترین کھیل سے شائقین ٹینس کومخظوظ کرتا ہے۔ اس کے کھیل کو سمجھنے میں حریف کھلاڑی کو کافی وقت لگتا ہے۔ اس کے پاس شاٹس کا زبردست انتخاب ہے۔

مینز ٹینس رینکنگ میں نواک جوکووچ کو سب سے زیادہ 361  ہفتے عالمی نمبر ایک رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ سرب لیجنڈ نواک جوکووچ پہلی بار 4 جولائی 2011 کو عالمی نمبر ایک کی پوزیشن سنبھالی تھی جب انہوں نے ہسپانوی سپر اسٹار رافیل نڈال کو اس اعزاز سے محروم کیا تھا۔  جوکووچ نے اپنے کیریئر میں سات ٹینس سیزن کا اختتام عالمی نمبر ایک کی حیثیت سے کیا جو عالمی ریکارڈ ہے۔

امریکا کے پیٹ سمپراس چھ مرتبہ سال کے اختتام پرعالمی نمبرایک رہے۔ راجر فیڈرر‘ رافیل نڈال اور امریکی کھلاڑی جمی کونرز نے پانچ پانچ مرتبہ ٹینس سیزن کا اختتام عالمی نمبر ایک کی حیثیت سے کیا ہے۔

گزشتہ دو برسوں سے روسی کھلاڑی ڈینیل میڈیڈیف غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے 2021 کے آسٹریلین اوپن فائنل میں میڈیڈیف کو جوکووچ نے ہرایا تھا جبکہ میڈیڈیف نے نیویارک میں یو ایس اوپن کے فائنل میں جوکووچ کو تین سیٹ کے مقابلے میں بآسانی زیر کر کے ناصرف اپنا پہلا گرینڈ سلام جیتا بلکہ آسٹریلین اوپن میں شکست کا بدلہ بھی چکا دیاتھا۔

میڈیڈیف نے روں سال کے پہلے گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن میں بھی اپنے شاندار کھیل کا سلسلہ جاری رکھا تھا لیکن وہ فائنل میں تجربہ کار رافیل نڈال سے پانچ سیٹ کے سخت مقابل میں شکست کھا بیٹھے تھے حالانکہ روسی کھلاڑی نے ابتدائی دو سیٹ جیت لیے تھے لیکن نڈال نے ناقابل یقین کارکردگی دکھائی اور کم بیک کرتے ہوئے باقی  تین سیٹ اپنے نام کر کے وہ سب سے زیادہ 21 گرینڈ سلام جیتنے والے کھلاڑی بن گئے۔ میڈیڈیف کو 2019  کے یو ایس اوپن فائنل میں بھی نڈال کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی تھی۔

 ڈینیل میڈیڈیف نے یوکرین پر حملے کی اطلاعات سن کر کہا کہ میں دنیا بھر میں امن کام فروغ دینا چاہتا ہوں۔ یوکرین پر حملے پر انہیں گہری تشویش ہے۔ میں کھلاڑی کی حیثیت سے دنیا بھر میں امن کا فروغ چاہتا ہوں کیونکہ میں مختلف ملکوں میں کھیلتا ہوں۔ اس طرح کی خبریں  سننا کوئی اچھی چیزنہیں ہے۔ دبئی اوپن میں شریک میڈیڈیف کے ہم وطن اور ساتھی کھلاڑی عالمی نمبر 7 آندری روبیلف نے بھی تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مہربانی کرکے جنگ بند کریں جنگ نہیں ہونی چاہیے۔

یوکرین پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر روبیلف کے خلاف نامناسب کمنٹس کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ نہیں ہونی چاہیے یہ ایک انسانی المیے کو چنم دیتی ہے۔

ڈینیل میڈیڈیف  11 فروری 1996 کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے  فزکس  اور ریاضی  کے مضامین میں اعلیٰ تعلیم  حاصل کرنے کے علاوہ یونیورسٹی سے کوچ کا ڈپلومہ بھی لیا۔ میڈیڈیف نے  ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں اکنامکس اور کامرس  میں ڈگری کیلئے داخلہ لیا تھا لیکن ٹینس کے کھیل پر توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے انہوں نے اس کو ڈراپ کر دیا تھا۔

 انہوں نے ٹینس کے کھیل کا آغاز پانچ برس کی عمر سے کیا تھا۔ پہلا جونیئر میچ اسٹونیا میں 2009 میں 13 سال کی عمرمیں کھیلا تھا۔ 2010 میں پہلا جونیئر ٹائٹل جیتا۔ 2012-13 میں میڈیڈیف نے جونیئر سرکٹ میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے چھ ٹرافیاں اپنے نام کیں۔ تاہم وہ کوئی گرینڈ سلام جونیئر ٹائٹل نہیں جیت پائے۔ عالمی جونیئررینکنگ میں وہ 13 ویں نمبر پر تھے۔

ڈینیل میڈیڈیف نے اپنے پروفیشنل ٹینس کیریئر کا آغاز 2015 میں کریملن کپ سے کیا تھا جب انہیں پہلی بار اے ٹی پی مین ڈرا میں شامل کیا گیا تھا۔ میڈیڈیف 2017 میں پہلی مرتبہ چنائے میں اے ٹی پی ایونٹ کے فائنل میں پہنچے تھے جہاں وہ رابرٹو بوٹسٹا آگبوٹ سے ہار گئے تھے۔ 2018 میں سڈنی انٹرنیشنل  ان کے کیریئر کا پہلا اے ٹی پی ٹائٹل تھا۔ میڈیڈیف 2019 میں پہلی بارٹاپ  10 کھلاڑیوں میں شامل ہوئے تھے اور پھروان کی درجہ بندی میں بہتری آتی رہی۔

انہوں نے گزشتہ برس میڈیڈیف نے سال کی  اختتامی چیمپئن شپ میں ٹائٹل کی حصول کی راہ میں تین ٹاپ 10 کھلاڑیوں کو شکست سے دو چار کیا تھا اور وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی تھے۔ میڈیڈیف نے اپنے کیریئر میں یو ایس اوپن سمیت 13 ٹائٹلز جیتے ہیں۔

اے ٹی پی کی جاری کردہ مینز ٹینس کی نئی عالمی رینکنگ میں رد و بدل ہوا ہے  جس میں  18 سال بعد بگ فور کے سوا کوئی اور کھلاڑی عالمی نمبر ایک پوزیشن پر براجمان ہوا ہے۔

نئی رینکنگ میں ٹاپ 30حسب ذیل ہے۔

عالمی نمبر ایک ڈینیل میڈیڈیف 8615 پوائنٹس‘ عالمی نمبر  2   نواک جوکووچ   8465 پوائنٹس‘ عالمی نمبر3 الیگزینڈر زیوریف  7515 پوائنٹس‘ عالمی نمبر  4  رافیل نڈال 6515 پوائنٹس‘ عالمی نمبر  5   اسٹیفانوس تیسسیپاس  6445 پوائنٹس‘ عالمی نمبر 6  آندری روبیلف 5000 پوائنٹس‘ عالمی نمبر  7 میٹیوبریٹینی   4928 پوائنٹس‘ عالمی نمبر 8 کیسپر رڈ 3915 پوائنٹس‘ عالمی نمبر  9   فیلکس اوگر الیسیمی 3883 پوائنٹس‘  عالمی نمبر  10  ہوبرٹ ہرکاز 3496 پوائنٹس‘ عالمی نمبر11  جانک سنر  3495پوائنٹس‘  عالمی نمبر 12  کیمرون نوری   3325 پوائنٹس‘  عالمی نمبر 13   ڈینس شپووالوف   3020 پوائنٹس‘  عالمی نمبر  14    ڈیگو شوارٹزمان  2835 پوائنٹس ‘ عالمی نمبر  15 رابرٹو بوٹسٹا آگبوٹ  2480 پوائنٹس‘ عالمی نمبر  16 پابلو سرینو بسٹا  2220 پوائنٹس‘عالمی نمبر  17  ریلی اوپلکا   2156 پوائنٹس ‘ عالمی نمبر 18 نکولس باسیلشویلی  2121 پوائنٹس‘ عالمی نمبر 19 کارلوس الکاریز 2061پوائنٹس ‘ عالمی نمبر 20   ٹیلر فرٹز  2010 پوائنٹس‘  عالمی نمبر  21  لورنزو سونیگو   1937  پوائنٹس‘ عالمی نمبر 22  اسلان کراٹسیف  1933پوائنٹس‘ عالمی نمبر  23  جان اسنر 1801 پوائنٹس ‘ عالمی نمبر 24 مرین سلچ   1785 پوائنٹس‘ عالمی نمبر 25 کیرن خاچانوف   1725پوائنٹس‘ عالمی نمبر  26 کرسٹین گارن  1716 پوائنٹس‘ عالمی نمبر  27  راجر فیڈرر   1665 پوائنٹس‘ عالمی نمبر 28  گائیل مونفلز 1633 پوائنٹس‘ عالمی نمبر  29   ڈینیل ایونز  1542 پوائنٹس‘ عالمی نمبر  30 ایلکس ڈی مینوئر  1486 پوائنٹس۔

tennis star

Russia Tennis Star

tennis Player

Tabool ads will show in this div