روس، یوکرین کےدرمیان کشیدگی،اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار

انڈیکس میں 250 پوائنٹس سے زائد کی کمی

روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری دن کے پہلے روز مندی کا رجحان ہے۔

پی ایس ایکس کی ویب سائٹ پر جاری اعداد و شمار کے مطابق کاروباری دن کے دوران 255 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی اور 1 بج کر 10 منٹ پر 100 انڈیکس 43 ہزار 728 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق آئل اینڈ پیٹرولیم سیکٹر کے حصص کی فروخت کا رجحان دیکھا جارہا ہے جس سے قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، آئل اینڈ گیس ڈیویلپنٹ کمپنی لمیٹڈ کے شیئر کی قیمت 0.36 فیصد کمی سے 85.79 روپے، پاکستان پِیٹرولیم لمیٹڈ کے شیئر کی قیمت 0.97 فیصد سے کم ہوکر 75.90 روپے ہوگئی جبکہ ایگریٹیک لمیٹڈ کے شیئر کی قیمت 20.79 فیصد سے بڑھ 5.81 روپے ہوگئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور حصص کی فروخت کا رجحان زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل 15فروری سے اب تک 8 ڈالر فی بیرل سے زائد مہنگا ہوگیا ہے اور روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید برھنے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے مالی سال کے پہلے 7 ماہ جولائی سے جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 11 ارب 57 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق صرف جنوری 2022 میں 2 ارب 60 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا، موجودہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 2 ارب 27 کروڑ ڈالر ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے کا اضافہ متوقع ہے۔ نومبر میں وزیرخزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ حکومت نے ہر ماہ پیٹرولیم لیوی 4 روپے بڑھانےکافیصلہ کیا اور لیوی 30 روپے تک بڑھادی جائے گی اور یہ اقدام عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

PSX

اسٹاک مارکیٹ،پاکستان اسٹاک ایکسچینج،

Tabool ads will show in this div