پیپلزپارٹی بلوچستان کے رہنماؤں میں پریس کانفرنس سے قبل اختلافات

ایک گروپ کانفرنس چھوڑ کر چلا گیا

مہنگائی کیخلاف لانگ مارچ کرنیوالی پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی قائدین میں پریس کانفرنس کے دوران اختلافات سامنے آگئے۔ صوبائی جنرل سیکریٹری اور صوبائی سیکریٹری اطلاعات سمیت دیگر کارکنان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کل (اتوار سے) مہنگائی کیخلاف لانگ مارچ کرری ہے، تاہم بلوچستان میں پی پی پی رہنماؤں میں اختلافات ہوگئے، پریس کانفرنس کے دوران کوآرڈینیٹر بلوچستان عبدالقادر بلوچ اور صوبائی سیکریٹری جنرل سر بلند جوگیزئی آمنے سامنے آگئے۔

کوآرڈینیٹر بلوچستان امور جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کی پریس کانفرنس میں صوبائی قائدین اور پارٹی رہنماؤں کی اسٹیج پر بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر اختلافات پیدا ہوگئے۔

صوبائی جنرل سیکریٹری روزی خان کاکڑ، صوبائی سیکریٹری اطلاعات سر بلند جوگیزئی اور دیگر عہدیدار پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے، درجنوں کارکنوں نے صوبائی جنرل سیکریٹری روزی خان کاکڑ کی قیادت میں نعرے بازی کی جبکہ جنرل ریٹائیرڈ عبدالقادر بلوچ کے حامیوں نے ان کے حق میں نعرے لگائے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر بلوچستان امور جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمیں لانگ مارچ سے متعلق کچھ باتیں کرنے کیلئے پریس کانفرنس کرنی تھی، وہ نیچے بیٹھ کر بھی کروں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

پریس کلب کے دورے کے موقع پر بی یو جے کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دینے آیا تھا تو سوچا ایک پریس کانفرنس رکھیں اور نئے آنیوالوں کو شامل کریں، ہمارے پاس کوئی عہدہ نہیں، کچھ لوگوں کو شمولیت کرانے لایا ہوں، ہم مسلم لیگ ن سے آئے اور بڑی تعداد میں پیپلزپارٹی کو جوائن کیا لیکن پیپلزپارٹی بلوچستان کی نئے کابینہ میں ہمارے ساتھیوں کو جگہ بھی نہیں دی گئی، ان تمام حالات اور صورتحال کے باوجود ہم سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر سردار عمر گورگیج کا کہنا تھا کہ صوبائی جنرل سیکریٹری اور عہدیداروں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، پارٹی میں قد آور شخصیات کا احترام ہونا چاہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کال پر مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے عوام ملک کے کونے کونے سے جمع ہورہے ہیں، لوگ موجودہ نااہل حکمرانوں سے مایوس ہوگئے، عوام کل سڑکوں پر نکلیں گے۔

Tabool ads will show in this div